سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 221
سيرة النبي علي 221 جلد 1 اللہ اللہ ! وہ کیا ہی پیاری مٹی ہو گی جسے آپ اٹھاتے تھے اور وہ مٹی کروڑوں من سونے سے زیادہ قیمتی تھی جسے اٹھانے کے لیے خاتم النبین ﷺ کے ہاتھ اٹھتے تھے اور جسے آپ کے پیٹ پر گرنے کا شرف حاصل ہوتا تھا۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عذاب شدید کو دیکھ کر يَقُولُ الْكَفِرُ يُلَيْتَنِي كُنْتُ تُريَّا 88 کا فر کہہ اٹھیں گے کہ کاش! ہم مٹی ہوتے۔اور شریر و بدمعاش لوگ جب سزا پاتے ہیں تو ایسے ہی جملے کہا کرتے ہیں اور اپنی حالت پر افسوس ہی کیا کرتے ہیں مگر خدا گواہ ہے صلى الله وہ مٹی جو آنحضرت ﷺ کے پیٹ پر گرتی تھی اس کی نسبت تو ایک مؤمن کا دل بھی للچا جاتا ہے کہ وہ لَيْتَنِي كُنْتُ تُرابا کہہ اٹھے اور یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ براء اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اُس مٹی کا بھی ذکر کرتے ہیں جو آپ کے پیٹ پر گرتی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُس مٹی کو بھی عشق کی نگاہوں سے دیکھتے تھے اور لالچ کی نگاہیں اُدھر پڑ رہی تھیں اسی لیے تو مدتوں کے بعد جب وہ جنگ احزاب کا ذکر فر ماتے ہیں تو وہ مٹی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر پڑتی تھی ان کو یاد آ جاتی ہے۔میں حیران ہوں کہ صحابہ کس محبت اور کس شوق سے اُس وقت آنحضرت علی کی طرف دیکھتے ہوں گے۔خدایا ! وہ مزدور کیسا ہو گا اور کس شان کا ہو گا جس کے سر پر نبوت کا تاج تھا اور دوش پر مٹی کا ڈھیر۔صحابہ کے قدموں میں کیسی تیزی اور کیسی پھرتی پیدا ہوگئی ہو گی۔ہر ایک ان میں سے اپنے دل میں کہتا ہو گا کہ خدا کے لیے جلد جلد اس مٹی کو صاف کر کے جس قدر ہو سکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کام کم ہو اور وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر بوجھ اٹھاتے ہوں گے تا کہ جلد اس بوجھ کو ختم کریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آرام دیں۔میری عقل چکراتی ہے جب میں صحابہ کے ان جذبات کا نقشہ اپنے دل میں ہوں جو اُس وقت ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہوں گے۔میری قوت متخیلہ پریشان ہو جاتی ہے جب میں ان خیالات پریشان کو اپنے سامنے حاضر کرتا ہوں جو