سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 219

سيرة النبي الله 219 جلد 1 صلى الله یہ بات تو تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے جو مخالفت مکہ والوں کو تھی اس کی نظیر دنیا کی کسی اور تاریخ میں نہیں ملتی۔آپ کی مخالفت اور ایذارسانی کے لیے جو تدابیر انہوں نے کیں یا جو منصو بے انہوں نے باندھے وہ اپنی نظیر آپ ہی تھے اور کبھی کسی قوم نے دنیا وی مخالفت میں یا دینی عداوت میں کسی انسان کی بلا وجہ ایسی بدخواہی نہیں کی جیسی اہل مکہ نے آنحضرت ﷺ سے کی مگر خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں صلى الله آنحضرت ﷺ کو فتح دی اور آپ ہر دشمن پر فاتح رہے۔گو چھوٹے چھوٹے حملے تو مدینہ میں آتے ہی شروع ہو گئے تھے مگر دراصل جنگوں کی ابتدا اب جنگ بدر سے ہی سمجھنا چاہیے کہ جس نے ایک طرف کفار کے بڑے بڑے سرداروں کو خاک میں ملا دیا اور دوسری طرف مسلمانوں پر ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ کی تائید انسان کو ہر مشکل سے سلامت نکال سکتی ہے اور دشمن خواہ کتنا ہی بہادر اور تعداد میں زیادہ ہو آسمانی تدابیر کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اس سے ان کے حو صلے بڑھ گئے۔قریش کو اپنے سرداروں کے مارے جانے کا طیش ایک دم چین نہ لینے دیتا تھا اور وہ آئے دن مسلمانوں پر حملے کرتے رہتے تھے جن میں سے مشہور حملہ اُحد کا بھی ہے۔یہ حملے متواتر چھ سال تک ہوتے رہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ جنگ بدر چھ سال تک متواتر جاری رہی اور اس کا خاتمہ احزاب پر ہوا جبکہ دشمن نے آخری مرتبہ ہزیمت اٹھا کر پھر مسلمانوں کو دکھ دینے کا ارادہ نہ کیا بلکہ ناامیدی اور مایوسی کا شکار ہو گئے اور سمجھ گئے کہ ہم مسلمانوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔جنگ احزاب جس کا ذکر قرآن شریف میں بار بار آیا ہے ایک نہایت خطرناک جنگ تھی جس میں مسلمان ایسے مجبور ہوئے تھے کہ انہیں قضائے حاجت کے لیے باہر جانے کو بھی رستہ نہ ملتا تھا اور کفار نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا تھا اور دس ہزار کا لشکر مرنے مارنے کے ارادہ سے مٹھی بھر مسلمانوں کے سامنے پڑا ہوا تھا جو مشکلات کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے۔