سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 202
سيرة النبي علي 202 جلد 1 سے عظمت الہی اور تقویٰ میں فرق نہ آئے اس کے کرنے پر انسان کی بزرگی میں فرق خَامِسَ نہیں آ سکتا۔حضرت ابن مسعود انصاری سے روایت ہے كَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبِ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَامٌ فَقَالَ اصْنَعُ لِيْ طَعَامًا أَدْعُو رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمُسَةٍ فَدَعَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَةٍ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَهذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ قَالَ بَلُ أَذِنُتُ لَهُ 80 آپ نے فرمایا کہ ایک شخص انصار میں تھا۔اس کا نام ابوشعیب تھا اور اس کا ایک غلام تھا جو قصائی کا پیشہ کرتا تھا۔اسے اس نے حکم دیا کہ تو میرے لیے کھانا تیار کر کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار اور آدمیوں سمیت کھانے کے لیے بلاؤں گا۔پھر اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کہلا بھیجا کہ حضور کی اور چار اور آدمیوں کی دعوت ہے۔جب آپ اس کے ہاں چلے تو ایک اور شخص بھی ساتھ ہو گیا۔جب آپ اس کے گھر پر پہنچے تو اس سے کہا کہ تم نے ہمیں پانچ آدمیوں کو بلوایا تھا اور یہ شخص بھی ہمارے ساتھ آ گیا ہے اب بتاؤ کہ اسے بھی اندر آنے کی اجازت ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! اجازت ہے تو آپ اس کے سمیت اندر چلے گئے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح بے تکلفی سے معاملات کو پیش کر دیتے۔شاید آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو چپ ہی رہتا مگر آپ دنیا کے لیے نمونہ تھے اس لیے ہر بات میں جب تک خود عمل کر کے نہ دکھاتے ہمارے لیے مشکل ہوتی۔آپ نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ سادگی ہی انسان کے لیے مبارک ہے اور ظاہر کر دیا کہ آپ کی عزت تکلف یا بناوٹ سے نہیں تھی اور نہ آپ ظاہری خاموشی یا وقار سے بڑا بننا چاہتے تھے بلکہ آپ کی عزت خدا کی طرف سے تھی۔