سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 203

سيرة النبي علي 203 جلد 1 گھر کا کام کاج خود کر لیتے میں نے پچھلی فصل میں بتایا ہے کہ آپ کسی صلى الله طرح سادگی سے کام لیتے اور تکلفات سے پر ہیز کرتے تھے اور بناوٹ سے کام نہ لیتے تھے۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ نہ صرف بے تکلفی سے سب کام کر لیتے اور اس معاملہ میں سادگی کو پسند فرماتے بلکہ آپ کی زندگی بھی نہایت سادہ تھی اور وہ اسراف اور غلو جو امراء اپنے گھر کے اخراجات میں کرتے ہیں آپ کے ہاں نام کو نہ تھا بلکہ ایسی سادگی سے اپنی زندگی بسر کرتے کہ دنیا کے بادشاہ اسے دیکھ کر ہی حیران ہو جا ئیں اور اس پر عمل کرنا تو ا لگ رہا یورپ کے بادشاہ شاید یہ بھی نہ مان سکیں کہ کوئی ایسا بادشاہ بھی تھا جسے دین کی بادشاہت بھی نصیب تھی اور دنیا کی حکومت بھی حاصل تھی مگر پھر بھی وہ اپنے اخراجات میں ایسا کفایت شعار اور سادہ تھا اور پھر بخیل نہیں بلکہ دنیا نے آج تک جس قدرسخی پیدا کیے ہیں ان سب سے بڑھ کر سخی تھا۔جن کو اللہ تعالیٰ دولت اور مال دیتا ہے ان کا حال لوگوں سے پوشیدہ نہیں۔غریب سے غریب ممالک میں بھی نسبتاً امراء کا گروہ موجود ہے حتی کہ جنگلی قوموں اور وحشی قبیلوں میں بھی کوئی نہ کوئی طبقہ امراء کا ہوتا ہے اور ان کی زندگیوں اور دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں جو فرق نمایاں ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔خصوصاً جن قوموں میں تمدن بھی ہو اُن میں تو امراء کی زندگیاں ایسی پر عیش وعشرت ہوتی ہیں کہ ان کے اخراجات اپنی حدود سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔آنحضرت علیہ جس قوم میں پیدا ہوئے وہ بھی فخر و خیلاء میں خاص طور پر مشہور تھی اور حشم و خدم کو مایہ ناز جانتی تھی۔عرب سردار با وجود ایک غیر آباد ملک کے باشندہ ہونے کے بیسیوں غلام رکھتے اور اپنے گھروں کی رونق کے بڑھانے کے عادی تھے اور عرب کے ارد گرد دو تو میں ایسی بستی تھیں کہ جو اپنی طاقت و جبروت کے لحاظ سے اُس وقت کی گل معلومہ دنیا پر حاوی تھیں۔ایک طرف ایران اپنی مشرقی شان و شوکت