سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 201

سيرة النبي علي 201 جلد 1 کہ کہیں میں بچہ کی ماں کو مشقت میں نہ ڈالوں نماز مختصر کر دیتا ہوں۔کس سادگی سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہم بچہ کی آواز سن کر نماز میں جلدی کر دیتے ہیں۔آجکل کے صوفیاء تو ایسے قول کو شاید اپنی ہتک سمجھیں کیونکہ وہ تو اس بات کے اظہار میں اپنا فخر سمجھتے ہیں کہ ہم نماز میں ایسے مست ہوئے کہ کچھ خبر ہی نہیں رہی۔اور گو پاس ڈھول بھی بجتے رہیں تو ہمیں کچھ خیال نہیں آتا۔مگر صلى الله آنحضرت علی ان تکلفات سے بری تھے۔آپ کی عظمت خدا کی دی ہوئی تھی نہ کہ انسانوں نے آپ کو معزز بنایا تھا۔یہ خیال وہی کر سکتے ہیں جو انسانوں کو اپنا عزت دینے والا سمجھتے ہوں۔حضرت انسؓ سے روایت ہے أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ ؟ قَالَ نَعَمُ 79 یعنی آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں پڑھ لیتے تھے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح تکلفات سے بچتے تھے۔اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ وہ مسلمان جو ایمان اور اسلام سے بھی ناواقف ہیں اگر کسی کو اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھتے دیکھ لیں تو شور مچا دیں اور جب تک کوئی ان کے خیال کے مطابق گل شرائط کو پورا نہ کرے وہ دیکھ بھی نہیں سکتے۔مگر آ نحضرت ﷺ جو ہمارے جو ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہیں آپ کا یہ طریق نہ تھا بلکہ آپ واقعات کو دیکھتے تھے نہ تکلفات کے پابند تھے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے طہارت اور پاکیزگی شرط ہے اور یہ بات قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔پس جب جوتی پاک ہو اور عام جگہوں پر جہاں نجاست کے لگنے کا خطرہ ہو پہن کر نہ گئے ہوں تو اس میں ضرورت کے وقت نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں۔اور آپ نے ایسا کر کے امت محمدیہ پر ایک بہت بڑا احسان کیا کہ انہیں آئندہ کے لیے تکلفات اور بناوٹ سے بچا لیا۔اس اسوہ حسنہ سے اُن لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے جو آج کل ان باتوں پر جھگڑتے ہیں اور تکلفات کے شیدا ہیں۔جس فعل