سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 197
سيرة النبي علي 197 جلد 1 جن لوگوں کی نسبت یہ احتیاط برتتے تھے ویسے لوگ بھی تو آج کل نہیں۔صحابہ تو وہ تھے کہ جنہوں نے خدا کی راہ میں اپنے اموال اور جانیں بھی لڑوا دیں وہ دوسروں کے اموال کی طرف کب نظر اٹھا کر دیکھ سکتے تھے۔مگر آج کل تو دوسروں کے اموال کو شیر مادر سمجھا جاتا ہے۔پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے پاکباز لوگوں کی نسبت بھی ایسی احتیاط برتتے تھے تو آج کل کے زمانہ کے لوگوں کی نسبت تو اس سے بہت زیادہ احتیاط کی جانی چاہیے۔سادگی ایک نعمت ہے اس زمانہ میں لوگ عام طور پر تکلف کی عادت میں بہت مبتلا ہیں اور اس زمانہ کی خصوصیت نہیں جو قوم ترقی کر لے اس میں تکلف اپنا دخل کر لیتا ہے۔دولت اور مال اور عزت کے ساتھ ساتھ تکلف بھی ضرور آ موجود ہوتا ہے اور بڑے آدمیوں کو کچھ نہ کچھ تکلف سے کام لینا پڑتا ہے لیکن جو مزا سادگی کی زندگی میں ہے وہ تکلف میں نہیں اور گو تکلف ظاہر میں خوشنما معلوم ہو مگر اندر سے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ذوق نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ اے ذوق ! تکلف میں ہے تکلیف سراسر آرام سے ہیں وہ جو تکلف نہیں کرتے تکلف کی وجہ سے لاکھوں گھرانے برباد ہو جاتے ہیں اور تصنع اور بناوٹ ہزاروں کی بربادی کا باعث ہو چکے ہیں مگر چونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ تکلف کے سوا ہماری عزت نہیں ہوتی برابر اس مرض میں مبتلا چلے جاتے ہیں اور کچھ علاج نہیں کرتے۔بادشاہ اور امراء یہ سمجھتے ہیں کہ اگر تکلف اور بناوٹ سے ہم اپنی خاص شان نہ بنائے رکھیں گے تو ماتحتوں میں بھی ہماری عزت نہ ہوگی اور اپنے ہم چشموں میں ذلیل ہوں گے اسی لیے بہت سے مواقع پر سادگی کو برطرف رکھ کر بناوٹ سے کام لیتے ہیں اور ہزاروں موقعوں پر اپنے مافی الضمیر کو بھی بیان نہیں کر سکتے۔میں ایک مجلس میں شامل ہوا جہاں بہت سے بڑے بڑے لوگ جمع تھے جو اس وقت ہندوستان میں خاص شہرت رکھتے ہیں اور بعض ان میں سے لیڈران قوم کہلاتے ہیں۔ان میں سے کچھ ہندو تھے