سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 198
سيرة النبي علي 198 جلد 1 کچھ مسلمان۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو ایک بیرسٹر صاحب نے کہا کہ ایک مدت ہو گئی کہ تکلف کے ہاتھوں میں تکلیف اٹھا رہا ہوں۔ہر وقت بناوٹ سے اپنے آپ کو سنجیدہ بنائے رکھنا پڑتا ہے اور بہت سی باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے مگر تکلف مانع ہوتا ہے کیونکہ وہ شان قائم نہیں رہتی مگر اب میں بالکل تنگ آ گیا ہوں۔اس زندگی کا فائدہ کیا۔ایک دوسرے صاحب بولے کہ بے شک میرا بھی یہی حال ہے اور میں تو اب اس زندگی کو جہنم کا نمونہ پاتا ہوں۔پھر تو سب نے یہی اقرار کیا اور تجویز ہوئی کہ آج کی مجلس میں تکلف چھوڑ دیا جائے اور بے تکلفی سے آپس میں بات چیت کریں اور بناوٹ نزدیک نہ آئے۔مگر خدا تعالیٰ انسان کو اس سادگی سے بچائے جو اُس وقت ظاہر ہوئی۔اسے دیکھ کر معلوم ہو سکتا تھا کہ آج دنیا کی کیا حالت ہے کیونکہ جس قوم کے لیڈر یہ نمونہ دکھا رہے تھے اُس کے عوام نے کیا کمی رکھی ہو گی۔کلام ایسا نخش کہ شریف آدمی سن نہ سکے، مذاق ایسا گندہ کہ سلیم الفطرت انسان برداشت نہ کر سکے، باتوں سے گزر کر ہاتھوں پر آگئے اور ایک دوسرے کے سر پر چپتیں بھی رسید ہونی شروع ہو گئیں۔پھر کچھ میوہ کھا رہے تھے اُس کی گٹھلیوں کی وہ بوچھاڑ شروع ہوئی کہ الامان۔میں نے تو سمجھا کہ اس گولہ باری میں میری خیر نہیں ایک کو نہ میں ہو کر بیٹھ گیا اور جب یہ سادگی ختم ہوئی تو میری جان میں جان آئی کہ آنکھ ناک سلامت رہے۔جو نمونہ سادگی اس مجلس کے ممبران نے دکھایا جو ہندو مسلمان دونوں قوموں میں سے تھے اس سے تو ان کے تکلف کو میں لوگوں کے لیے ہزار درجہ بہتر سمجھتا ہوں مگر اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ تکلف خود ان لوگوں کے لیے وبالِ جان ہو رہا تھا اور ہے۔گو وہ خوش نظر آتے ہیں مگر در حقیقت اپنی جھوٹی عظمت اور عزت قائم کرنے کے لیے لوگوں کے سامنے ایسے سنجیدہ بنے رہتے ہیں اور ایسے بنے ٹھنے رہتے ہیں کہ اپنے حقیقی جذبات کو چھپانے اور اپنے جسم کو حد سے زیادہ مشقت میں ڈالنے کی وجہ سے ان کے