سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 196
سيرة النبي علي 196 جلد 1 عہدہ ہی نہیں دیتے تھے۔در حقیقت اگر غور کیا جائے تو ایک شخص جب کسی عہدہ کی خود درخواست کرتا ہے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس کی کوئی غرض ہے اور کچھ تعجب نہیں کہ اس عہدہ پر قائم ہو کر وہ لوگوں کو دکھ دے اور ان کے اموال پر دست اندازی کرے۔مگر جس شخص کو اس کی درخواست کے بغیر کسی عہدہ پر مامور کیا جائے تو اس سے بہت کچھ امید ہوسکتی ہے کہ وہ عدل وانصاف سے کام لے گا اور لوگوں کے حقوق کو تلف نہ کرے گا کیونکہ اسے اس عہدہ کی خواہش ہی نہ تھی بلکہ خود بخود اسے سپر د کیا گیا ہے۔دوسرے یہ بھی بات ہے کہ جب حاکم یہ فیصلہ کر دے کہ جو شخص خود کسی عہدہ کی درخواست کرے یا کسی سے سفارش کروائے اسے کوئی عہدہ دینا ہی نہیں تو اس سے یہ بڑا فائدہ ہوتا ہے کہ آئندہ کے لیے جائز و نا جائز وسائل سے حکام کے مزاج میں دخل پیدا کرنے کا بالکل سد باب ہو جاتا ہے اور خوشامد بند ہو جاتی ہے کیونکہ حکام سے رسوخ پیدا کرنے یا ان کی جھوٹی خوشامد کرنے سے یہی غرض ہوتی ہے کہ کچھ نفع حاصل کیا جائے۔پس جب حاکم یہ فیصلہ کر دے کہ جو خود درخواست کرے گا اسے کسی عہدہ پر مامور نہ کیا جائے گا تو ان تمام باتوں کا سد باب ہو جاتا ہے۔اور گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نفس پاک ان عیبوں سے بالکل پاک تھا کہ آپ کی نسبت یہ خیال کیا جا سکے کہ آپ کسی کی بات میں آ جائیں گے مگر آپ نے اس طریق عمل سے مسلمانوں کے لیے ایک نہایت شاندار سڑک تیار کر دی ہے جس پر چل کر وہ حکومت کی بہت سی خرابیوں سے بچ سکتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ دوسری قوموں کی نسبت مسلمان حکومتوں میں ہی حکام کے منہ چڑھ کر لوگ بہت فائدہ اٹھاتے ہیں اور سفارشوں سے جو کام نکلتے ہیں وہ لیاقت سے نہیں نکلتے۔اگر مسلمان حکام اس طرف غور کرتے تو آج اسلامی حکومتوں کا وہ حال نہ ہوتا جو ہے۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم