سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 188
سيرة النبي علي 188 جلد 1 مِنْكُمْ أَن يُطَيِّبَ بِذلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُوْنَ عَلَى حَظِهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيْءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلُ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبُنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا نَدْرِى مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنُ فَارْجِعُوْا حَتَّى يَرْفَعُوْا إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمُ عُرَفَاؤُهُمُ ثُمَّ رَجَعُوْا إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوْهُ أَنَّهُمُ قَدْ طَيَّبُوْا وَأَذِنُوْا 73 جب وفد ہوازن بحالت قبول اسلام آنحضرت ﷺ کے پاس آیا آپ کھڑے ہوئے۔ہوازن کے ڈیپوٹیشن کے ممبروں نے آنحضرت عے سے سوال کیا کہ ان کے مال اور قیدی واپس کیے جائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ مجھے سب سے پیاری وہ بات لگتی ہے جو سب سے زیادہ سچی ہو۔پس میں صاف صاف کہہ دیتا ہوں کہ دونوں چیزیں تمہیں نہیں مل سکتیں۔ہاں دونوں میں سے جس ایک کو پسند کرو وہ تمہیں مل جائے گی خواہ قیدی آزاد کر وا لو خواہ اموال واپس لے لو اور میں تو تمہارا انتظار کرتا رہا مگر تم نہ پہنچے۔( اور رسول کریم ﷺ طائف سے لوٹتے وقت دس سے کچھ اوپر راتیں ان لوگوں کا انتظار کرتے رہے تھے۔) جب انہیں یہ معلوم ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے عرض کیا کہ اگر یہی بات ہے تو ہم اپنے قیدی چھڑوانا پسند کرتے صلى الله ہیں۔اس پر آنحضرت علہ مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے کے بعد فرمایا کہ سنو ! تمہارے ہوازن کے بھائی تائب ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں اور میری رائے ہے کہ میں ان کے قیدی انہیں واپس کر دوں۔پس جو کوئی تم میں سے یہ پسند کرے کہ اپنی خوشی سے غلام آزاد کر دے تو وہ ایسا کر دے۔اور اگر کوئی یہ چاہے کہ اس کا حصہ قائم رہے اور جب خدا سب سے پہلی دفعہ ہمیں کچھ مال دے تو اُسے اس کا حق ہم ادا کر دیں تو وہ اس شرط سے غلام آزاد کر دے۔لوگوں نے