سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 187

سيرة النبي علي 187 جلد 1 الگ رہی خود محافظ ہی یتامیٰ کے مال کھا جاتے ہیں اور اس احتیاط کے قریب بھی نہیں جاتے جس کا نمونہ رسول کریم ﷺ نے دکھایا ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بنو ہوازن کے اموال تامی کے اموال کے لینے سے رسول کریم ﷺ نے جس احتیاط سے انکار کر دیا اور با وجود اصرار کے مسجد کے لیے بھی زمین کا لینا پسند نہ کیا وہ تو پچھلے واقعہ سے ظاہر ہے۔اب ایک اور واقعہ اسی قسم کا لکھتا ہوں۔ہوازن کے ساتھ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ ہوا تو ان کے بہت سے مرد اور عورتیں قید ہوئے اور بہت سا مال بھی صحابہ کے قبضہ میں آیا۔چونکہ آنحضرت علہ نہایت رحیم و کریم انسان تھے اور ہمیشہ اس بات کے منتظر رہتے کہ لوگوں پر رحم فرمائیں اور انہیں کسی مشقت میں نہ ڈالیں آپ نے نہایت احتیاط سے کام لیا اور کچھ دن تک انتظار میں رہے کہ شاید قبیلہ ہوازن کے لوگ آ کر عفوطلب کریں تو ان کے اموال اور قیدی واپس کر دئیے جائیں مگر انہوں نے خوف سے یا کسی باعث سے آپ کے پاس آنے میں دیر لگائی تو آپ نے اموال و قیدی بانٹ دیئے۔اس واقعہ کو امام بخاری نے مفصل بیان کیا ہے۔مسور بن مخرمہ کی روایت ہے أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِيْنَ جَاءَهُ وَقُدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِيْنَ فَسَأَلُوْهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْحَدِيْثِ إِلَى أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْمَالَ فَقَدْ كُنتُ اسْتَأْنَيتُ بهِمُ وَقَدْ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِيْنَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَين قَالُوْا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِيْنَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هؤُلَاءِ قَدْ جَاء وَنَا تَائِبِيْنَ وَإِنّى قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ