سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 189
جلد 1 سيرة النبي ع طور ہے 189 آپ کا ارشادسن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم نے آ یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کے لیے اپنے غلام خوشی سے آزاد کر دیئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم تو نہیں سمجھتے کہ تم میں سے کس نے خوشی سے اجازت دی ہے اور کس نے اجازت نہیں دی۔پس سب لوگ یہاں سے اٹھ کر اپنے خیموں پر جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار تم سے فیصلہ کر کے ہمارے سامنے معاملہ پیش کریں۔پس لوگ لوٹ گئے اور ہر قبیلہ کے سردار نے اپنے پر گفتگو کی۔پھر سب سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ سب لوگوں نے دل کی خوشی سے بغیر کسی عوض کی طمع کے اجازت دے دی ہے کہ آپ غلام آزادفرما دیں۔اس جگہ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس قبیلہ میں پہلے تھے اور جس میں سے آپ کی دائی تھیں وہ ہوازن کی ہی ایک شاخ تھی۔پس ایک لحاظ سے ہوازن کے قبیلہ والے آپ کے رشتہ دار تھے اور ان سے رضاعت کا تعلق تھا۔چنانچہ جب وفد ہوازن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو اس میں سے ابو برقان اسعدی (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دائی حلیمہ سعد قبیلہ میں سے ہی تھیں) نے آپ کی خدمت میں عرض کیا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ فِي هَذِهِ الْخَطَائِرِ إِلَّا أُمَّهَاتُكَ وَخَالَاتُكَ وَحَوَاضِنُكَ وَمُرْضِعَاتُكَ فَامْنُنُ عَلَيْنَا مَنَّ اللهُ عَلَيْكَ 74 یا رسول الله ! ان احاطوں کے اندر حضور کی مائیں اور خالہ اور کھلایاں اور دودھ پلائیاں ہی ہیں اور تو کوئی نہیں پس حضور ہم پر احسان فرمائیں اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا۔پس ہوازن کے ساتھ آپ کا رضاعی تعلق تھا اور اس وجہ سے وہ اس بات کے مستحق تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نیک سلوک کرتے۔چنانچہ آپ نے اسی ارادہ سے دس دن سے زیادہ تک اموال غنیمت کو مسلمانوں میں تقسیم نہیں کیا اور اس بات کے منتظر رہے کہ جونہی ہوازن پشیمان ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور اپنے اموال اور قیدیوں کو طلب کریں