سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 177
سيرة النبي علي 177 جلد 1 کے نہ سنبھل سکتے تھے اور چاہتے تھے کہ پاؤں جما کر لڑیں مگر قدم نہ جمتے تھے اور ہم اپنے گھوڑوں کو واپس کرتے تھے لیکن گھوڑے نہ لوٹتے اور ہم اس قدر ان کی باگیں کھینچتے تھے کہ گھوڑے دو ہرے ہو جاتے تھے مگر پھر آگے کو ہی بھاگتے تھے اور واپس نہ خص لوٹتے تھے۔پس اس خطرناک وقت میں جب ایک جرار لشکر پیٹھ پھیر چکا ہو ایک تن تنہا صرف چند وفادار خدام کے ساتھ دشمن کے مقابلہ میں کھڑا رہے اور تیروں کی بارش کی ذرا بھی پرواہ نہ کرے تو یہ ایک ایسا فعل نہیں ہو سکتا جو کسی معمولی جرات یا دلیری کا نتیجہ ہو بلکہ آپ کے اس فعل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے سینہ میں ایک ایسا دل رکھتے تھے جو کسی سے ڈرنا جانتا ہی نہ تھا اور خطرناک دشمن کے مقابلہ میں ایسے وقت جبکہ اس کے پاس کوئی ظاہری سامان موجود نہ ہو کھڑا رہنا اس کے لیے ایک معمولی کام تھا اور یہ ایک ایسا دلیرانہ کام ہے، ایسی جرات کا اظہار ہے کہ جس کی نظیر اولین و آخرین کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔آپ (فِدَاهُ اَبِيْ وَأُمِّي) خوب جانتے تھے کہ کفار عرب کو اگر کسی جان کی ضرورت ہے تو میری جان کی۔اگر وہ کسی کے دشمن ہیں تو میرے دشمن ہیں۔اگر وہ کسی کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو مجھے۔مگر باوجود اس علم کے، باوجود بے یار و مددگار ہونے کے آپ ایک قدم پیچھے نہ ہٹے بلکہ اس خیال سے کہ کہیں خچر ڈر کر نہ بھاگ جائے ایک آدمی کو باگ پکڑوا دی کہ اسے پکڑ کر آگے بڑھاؤ تا یہ بے بس ہو کر بھاگ نہ جائے۔بے شک چند آدمی آپ کے ساتھ اور بھی رہ گئے تھے مگر وہ اول تو اس عشق کی وجہ سے جو انہیں رسول کریم ﷺ کے ساتھ تھا وہاں کھڑے رہے دوسرے ان کی جان اس خطرہ میں نہ تھی جس میں آنحضرت ﷺ کی جان تھی۔پس باوجود کمال دلیری کے آپ کی جرات صلى الله کا مقابلہ وہ لوگ بھی نہیں کر سکتے جو اس وقت آپ کے پاس کھڑے رہے۔اس جگہ ایک اور بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ایسے وقت میں ایک بہادر انسان اپنی ذلت کے خوف سے جان دینے پر آمادہ بھی ہو جائے اور بھاگنے کا خیال چھوڑ بھی