سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 176
سيرة النبي علي 176 جلد 1 صلى الله رسول کریم ﷺ نہیں بھاگے۔ہوازن ایک تیرانداز قوم تھی اور تحقیق ہم جب ان سے ملے تو ہم نے ان پر حملہ کیا اور وہ بھاگ گئے۔ان کے بھاگنے پر مسلمانوں نے ان کے اموال جمع کرنے شروع کیے لیکن ہوازن نے ہمیں مشغول دیکھ کر تیر برسانے شروع کیے۔پس اور لوگ تو بھاگے مگر رسول کریم ﷺ نہ بھاگے بلکہ اس وقت میں نے دیکھا تو آپ اپنی سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان نے آپ کے خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور آپ فرما رہے تھے میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے۔میں عبدالمطلب کی اولاد میں ہوں۔۔اس واقعہ کی اہمیت کے روشن کرنے کے لیے میں نے پہلے بتایا تھا کہ بادشاہ لشکر میں سب سے زیادہ خطرہ میں ہوتا ہے کیونکہ جو نقصان بادشاہ کے قتل یا قید کر لینے سے لشکر کو پہنچتا ہے وہ کئی ہزار سپاہیوں کے مارے جانے سے نہیں پہنچتا۔پس دشمن کو جس قدر آپ کا تجسس ہو سکتا تھا اور کسی کا نہیں۔پس جبکہ اچانک دشمن کا حملہ ہوا اور وہ اپنے پورے زور سے ایک عارضی غلبہ پانے میں کامیاب ہوا اور لشکر اسلام اپنی ایک غلطی کی وجہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا تو دشمن کے لیے ایک غیر مترقبہ موقع تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ پر حملہ کرتا اور اپنے مدت کے بغض اور عناد کو عملی جامہ پہنا تا۔پس ایسی صورت میں آپ کا وہاں کھڑا رہنا ایک نہایت خطرناک امر تھا جو نہایت بہادری اور جرات چاہتا تھا اور عام عقل انسانی اس واقعہ کی تفصیل کو دیکھ کر ہی حیران ہو جاتی ہے کہ کس طرح صرف چند آدمیوں کے ساتھ آپ وہاں کھڑے رہے۔آپ کے ساتھ اُس وقت بارہ ہزار بہادر سپاہی تھا جو ایک سے ایک بڑھ کر تھا اور سینکڑوں مواقع پر کمال جرات دکھلا چکا تھا مگر حنین میں کچھ ایسی ابتری پھیلی اور دشمن نے اچانک تیروں کی ایسی بوچھاڑ کی کہ بہادر سے بہادر سپاہی کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ تاب مقابلہ نہ لا سکا حتی کہ جنگ کا عادی بلکہ میدانِ جنگ کا تربیت یافتہ عرب گھوڑا بھی گھبرا کر بھاگا اور بعض صحابہ کا بیان ہے کہ اس شدت کا حملہ تھا کہ ہم باوجود کوشش