سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 178
سيرة النبي علي 178 جلد 1 دے تب بھی وہ یہ جرات نہیں کر سکتا کہ دشمن کو للکارے اور اگر للکارے بھی تو کمال مایوسی کا اظہار کرتا ہے اور جان دینے کے لیے آمادگی ظاہر کرتا ہے مگر آپ نے اس خطرناک وقت میں بھی پکار کر کہا کہ میں خدا کا نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں جس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خطر ناک وقت میں بھی آپ گھبرائے نہیں بلکہ ان لوگوں کو پکار کر سنا دیا کہ میں تو سچا ہوں اور خدا کی طرف سے ہوں تم میرا کیا بگاڑ سکتے ہو۔پس ایسے خطرناک موقع پر خون کے پیاسے دشمنوں کے مقابلہ میں کھڑا رہنا ، پھر انہیں اپنی موجودگی کی اطلاع خود نعرہ مار کر دینا، پھر کامل اطمینان اور یقین سے فتح کا اظہار کرنا ایسے امور ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے کوئی شخص میرے آقا کے مقابلہ میں جرات و دلیری کا دعوی نہیں کرسکتا۔مال کے متعلق احتیاط آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق بادشاہ بھی بنا دیا تھا اور گو آپ کے مخالفین نے ناخنوں تک زور مارا مگر خدا کے وعدوں کو پورا ہونے سے کون روک سکتا ہے۔باوجود ہزاروں بلکہ لاکھوں دشمنوں کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دشمنوں پر فتح دی اور وہ سب آپ کے سامنے گردنیں جھکا دینے پر مجبور ہوئے اور انہیں چارو ناچار آپ کے آگے سر نیاز مندی جھکانا پڑا۔مختلف ممالک سے زکوۃ وصول ہو کر آنے لگی جس کا انتظام آپ ہی کرتے تھے مگر جس رنگ میں کرتے تھے اسے دیکھ کر سخت حیرت ہوتی ہے۔آج کل کے بادشاہوں کو دیکھو کہ وہ لوگوں کا روپیہ کس طرح بے دریغ اڈار ہے ہیں۔وہ مال جو غرباء کے لیے جمع ہو کر آتا ہے اسے اپنے اوپر خرچ کر ڈالتے ہیں اور ان کے خزانوں کا کوئی حساب نہیں۔اگر وہ اپنے خاص اموال کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کریں تو ان پر کوئی اعتراض نہ ہو مگر غرباء کے اموال جو صرف تقسیم کرنے کے لیے ان کے سپرد کیے جاتے ہیں ان پر بھی وہ ایسا دست تصرف پھیرتے ہیں کہ جیسے خاص ان کا اپنا مال ہے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔مگر آنحضرت ﷺ کا حال بالکل اس