سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 128
سيرة النبي علي 128 جلد 1 اخلاص باللہ۔یا دالہی رسول کریم ﷺ کی عادت عروسة خدا تعالیٰ کے ذکر پر آپ کو جوش آجاتا تھی کہ بہت آرام اور آہستگی سے کلام کرتے تھے اور آپ کے کلام میں جوش نہ ہوتا تھا بلکہ بہت سہولت ہوتی تھی لیکن آپ کی یہ بھی عادت تھی کہ جہاں خدا تعالیٰ کا ذکر آتا آپ کو جوش آجاتا تھا اور آپ کی عبارت میں ایک خاص شان پیدا ہو جاتی تھی۔چنانچہ احادیث کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر کے آتے ہی آپ کو جوش آ جاتا تھا اور آپ کے لفظ لفظ سے معلوم ہوتا تھا کہ عشق الہی کا دریا آپ کے اندر لہریں مار رہا ہے آپ کے کلام کو پڑھ کر محبت کی ایسی پٹیں آتیں کہ پڑھنے والے کا دماغ معطر ہو جاتا۔اللہ اللہ ! ! آپ صحابہ میں بیٹھ کر کس پیار سے باتیں کرتے ہیں، ان کی دلجوئی کرتے ہیں، ان کی شکایات کو سنتے ہیں۔پھر صحابہ ہی کا کیا ذکر ہے کافر و مومن آپ کی ہمدردی سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور ہر ایک تکلیف میں آپ مہربان باپ اور محبت کرنے والی ماں سے زیادہ ہمدرد و مہربان ثابت ہوتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں جہاں اس کا اور غیر کا مقابلہ ہو جائے آپ بے اختیار ہو جاتے ہیں۔محبت ایسا جوش مارتی ہے کہ رنگ ہی اور ہو جاتا ہے۔سننے والے کا دل ایک ایسی وابستگی پاتا ہے کہ آپ ہی کا ہمرنگ ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی وہ عظمت بیان کرتے ہیں کہ دل بے اختیار اس پر قربان ہونا چاہتا ہے۔وہ ہیبت بیان کرتے ہیں کہ بدن کانپ اٹھتا ہے۔وہ جلال بیان کرتے ہیں کہ جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایسا خوف دلاتے