سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 127

سيرة النبي علي 127 جلد 1 بلکہ حضرت ابوبکر کی خلافت کی طرف اشارہ فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا انکار کسی دنیاوی غرض کے لیے نہ تھا بلکہ ایک بے پایاں یقین کا نتیجہ تھا۔اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مسیلمہ کذاب کی مدد حاصل کرنا بظا ہر مذہبی لحاظ سے بھی مضر نہ تھا کیونکہ اگر وہ یہ شرط پیش کرتا کہ میں آپ کی اتباع اس شرط پر کرتا ہوں کہ آپ فلاں فلاں دینی باتوں میں میری مان لیں تو بھی یہ کہا جا سکتا تھا کہ اپنی بات کی بیچ کی وجہ سے آپ نے اس کے مطالبہ کا انکار کر دیا لیکن اس نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے معلوم ہو کہ وہ مذہب میں تبدیلی چاہتا تھا۔پس آپ کا انکار صرف اُس تو کل اور یقین کا نتیجہ تھا جو آپ کو خدا تعالیٰ پر تھا۔ایک اور بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ آپ اگر چاہتے تو اُسی وقت مسیلمہ کو پکڑ کر مروا دیتے کیونکہ گو وہ ایک کثیر جماعت کے ساتھ آیا تھا مگر پھر بھی مدینہ میں تھا اور آپ کے ہاتھ کے نیچے۔لیکن اس معاملہ میں بھی آپ نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا کہ وہ خود اس موذی کو ہلاک کرے گا۔اللّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيْدٌ۔