سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 129

سيرة النبي علي 129 جلد 1 ہیں کہ مومن انسان کا دل تو خوف کے مارے پکھل ہی جاتا ہے۔پھر ایسی شفقت و محبت کا بیان کرتے ہیں کہ ٹوٹے ہوئے دل جڑ جاتے ہیں اور گری ہوئی ہمتیں بڑھ جاتی ہیں۔اللہ اللہ ! آپ کے عام کلام کا مقابلہ اگر اُس کلام سے کریں کہ جس میں بندوں کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتے ہیں تو زمین و آسمان کا فرق معلوم دیتا ہے۔گویا خدا تعالیٰ کا ذکر آتے ہی آپ کا رواں رواں اس کی طرف جھک جاتا ہے اور ذرہ ذرہ اس کے احسانات کو یاد کرنے لگتا ہے اور زبان ان کی ترجمان ہوتی ہے۔نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم علیہ سے سنا کہ فرماتے تھے الْحَلَالُ بَينَ وَالْحَرَامُ بَيْنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوْشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكِ حِمى أَلَا إِنَّ حِمَى اللهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً صَلَحَت صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ 46 حلال بھی بیان ہو چکا ہے اور حرام بھی بیان ہو چکا اور ان دونوں کے درمیان کچھ ایسی چیزیں ہیں کہ مشابہ ہیں انہیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔پس جو کوئی شبہات سے بچے اس نے اپنی عزت اور دین کو بچالیا اور جو کوئی ان شبہات میں پڑ گیا اس کی مثال ایک چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی رکھ کے اردگر داپنے جانوروں کو چرا تا ہے قریب ہے کہ اپنے جانوروں کو اندر ڈال دے۔خبردار! ہر ایک بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے۔خبردار! اللہ تعالیٰ کی رکھ اس کی زمین میں اس کے محارم ہیں۔خبر دار ! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو جائے تو سب جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ خراب ہو جائے تو سب جسم خراب ہو جاتا ہے۔خبردار! اور وہ گوشت کا ٹکڑا قلب ہے۔اس عبارت کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے دل میں اُس وقت