سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 126
سيرة النبي علي 126 جلد 1 ہوئے گھوڑے، اٹھتے ہوئے نیزے اور چمکتی ہوئی تلوار میں اس کی آنکھوں میں کچھ حقیقت نہیں رکھتی تھیں۔وہ ملائکہ آسمانی کا نزول دیکھ رہا تھا اور زمین و آسمان کا پیدا کنندہ اس کے کان میں ہر دم تسلی آمیز کلام ڈال رہا تھا۔اس کا دل یقین سے پُر اور سینہ ایمان سے معمور تھا۔غرضیکہ بجائے دنیاوی اسباب پر بھروسہ کرنے کے اس کا تو کل خدا پر تھا۔پھر بھلا ان مصائب سے وہ کب گھبر ا سکتا تھا۔اس نے مسیلمہ اور اس کے لشکر پر روسہ کرنا ایک دم کے لیے بھی مناسب نہ جانا اور صاف کہہ دیا کہ خلافت کا دھوکا دے کر تجھے اپنے ساتھ ملانا اور تیری قوم کی اعانت حاصل کرنی تو علیحدہ امر ہے ایک کھجور کی شاخ کے بدلہ میں بھی اگر تیری حمایت حاصل کرنی پڑے تو میں اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھوں۔اس غیور دل کی حالت پر غور کرو۔اس متوکل انسان کی شان پر نظر ڈالو۔اس یقین سے پُر دل کی کیفیت کا احساس اپنے دلوں کے اندر پیدا کر کے دیکھو کہ کس یقین اور توکل کے ماتحت وہ مسلمہ کو جواب دیتا ہے۔کیا کوئی بادشاہ ایسے اوقات میں اس جرأت اور دلیری کو کام میں لاسکتا ہے؟ کیا تاریخ کسی گوشت اور پوست سے بنے ہوئے انسان کو ایسے مواقع میں سے اس سلامتی سے نکلتا ہوا دکھا سکتی ہے؟ اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ آپ کی زندگی سے مقابلہ کرنا ہی غلط ہے کیونکہ آپ نبی تھے۔اگر آپ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے تو انبیاء سے۔مگر جوشان آپ کو حاصل ہے اس کی نظیر انبیاء میں بھی نہیں مل سکتی کیونکہ آپ کو سب انبیاء پر فضیلت ہے۔اس جگہ یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ مسیلمہ کو جواب دیتے وقت رسول کریم ﷺ کے یہ مد نظر نہ تھا کہ آپ حکومت کے حق کو اپنی اولاد کے لیے محفوظ رکھنا چاہتے تھے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آپ کا انکار توکل علی اللہ کے باعث نہیں بلکہ اپنی اولاد کی محبت کی وجہ سے قرار دیا جاتا لیکن رسول کریم ﷺ نے اپنی اولاد کو اپنے بعد اپنا جانشین نہیں بنایا