سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 118
سيرة النبي علي 118 جلد 1 سے توجہ ہٹا لیتے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ آجکل کے صوفیاء کی طرح اسباب کے تارک نہ تھے کیونکہ اسباب کا ترک گویا خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہتک کرنا اور اس کی پیدائش کو لغو قرار دینا ہے۔لیکن اسباب کے مہیا کرنے کے بعد آپ بکلی خدا تعالیٰ پر تو کل کرتے اور گو اسباب مہیا کرتے لیکن اُن پر بھروسہ اور تو کل کبھی نہ کرتے تھے اور صرف خدا ہی کے فضل کے امیدوار رہتے اور صرف اُسی کے فضل کے امیدوار رہتے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آپ ہر ایک گھبراہٹ کے وقت فرماتے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيم 41 کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے۔وہ رب ہے بڑے تخت حکومت کا۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ آسمانوں کا رب ہے۔وہ زمین کا رب ہے۔وہ بزرگ تخت کا رب ہے۔( یعنی میرا بھروسہ اور تو کل تو اُسی پر ہے) اپنی اولا د کو صدقہ سے محروم کر دیا اسلام کے عظیم الشان احکام میں سے زکوۃ اور صدقہ کے احکام ہیں۔ہر مسلمان پر جس کے پاس چالیس سے زائد روپے ہوں اور اُن پر سال گزر جائے فرض ہے کہ ان میں سے چالیسواں حصہ وہ خدا کی راہ میں دے دے۔یہ مال محتاجوں اور غریبوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور وہ لوگ جو کسی سبب سے اپنی حوائج کو پورا کرنے سے قاصر ہوں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا ابناء السبیل کو مدد دی جاتی ہے۔اس کے محصلوں کی تنخواہ بھی اسی میں سے ہی نکلتی ہے۔غرض کہ محتاجوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شریعت اسلام نے یہ قاعدہ جاری کیا ہے اور اس میں بہت سے ظاہری اور باطنی فوائد مد نظر ہیں لیکن اس کا ذکر بے موقع ہے۔زکوۃ کے علاوہ جو ایک وقت مقررہ پر سرکار کے خزانہ میں داخل ہو کر غرباء میں تقسیم کیے جانے کا حکم ہے صدقہ کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ ہر ایک ذی استطاعت کو مناسب ہے کہ وہ اپنے طور پر اپنے