سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 117

سيرة النبي علي 117 جلد 1 نہیں ٹھہر سکتا۔شاید کوئی مجنون ایسا کر سکے کہ ایسے خطرناک موقع پر بے پرواہ رہے۔لیکن میں پوچھتا ہوں کہ مجنون فقدانِ حواس کی وجہ سے ایسا کہہ تو لے لیکن وہ کون ہے جو اس کے مجنونانہ خیالات کے مطابق اس کے متعاقبین کی آنکھوں کو اس سے پھیر دے اور متعاقب سر پر پہنچ کر پھر اس کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھ سکیں۔پس رسول کریم ﷺ کا تو کل ایک رسولا نہ تو کل تھا اور جسے خدا تعالیٰ نے اسی رنگ میں پورا کر دیا۔آپ نے خدا تعالیٰ پر یقین کر کے کہا کہ میرا خدا ایسے وقت میں مجھے ضائع نہیں کرے گا اور خدا نے آپ کے تو کل کو پورا کیا اور آپ کو دشمن کے قبضہ میں جانے سے بچا لیا اور اسے اس طرح اندھا کر دیا کہ وہ آپ کے قریب پہنچ کر خائب و خاسر لوٹ گیا۔یہ وہ تو کل ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔حضرت موسی سے بھی ایک موقع پر اس قسم کے توکل کی نظیر ملتی ہے لیکن وہ مثال اس سے بہت ہی ادنی ہے کیونکہ حضرت موسی کے ساتھیوں نے فرعونیوں کو دیکھ کر کہا کہ اِنَّا لَمُدْرَكُونَ ہم ضرور گرفتار ہو جائیں گے۔اس پر حضرت موسی نے جواب میں کہا اِنَّ مَعِيَ رَبِّ سَيَهْدِينِ 40 لیکن رسول کریم ﷺ کا تو کل ایسا کامل تھا کہ اس نے آپ کے ساتھی پر بھی اثر ڈالا اور حضرت ابوبکر نے موسائیوں کی طرح گھبرا کر یہ نہیں کہا کہ ہم ضرور پکڑے جائیں گے بلکہ یہ کہا کہ اگر وہ نیچی نظر کریں تو دیکھ لیں۔اور یہ ایمان اُس پر تو کا نتیجہ تھا جو نور نبوت اُس وقت آپ کے دل پر ڈال رہا تھا۔دوسرے حضرت موسیٰ کے ساتھ فوج تھی اور ان کے آگے بھاگنے کی جگہ ضرور موجود تھی لیکن رسول کریم ﷺ کے ساتھ نہ کوئی جماعت تھی اور نہ آپ کے سامنے کوئی اور راستہ تھا۔اسی طرح اور بھی بہت سے فرق ہیں جو طوالت کی وجہ سے میں اس جگہ بیان نہیں کرتا۔الله آپ کی ایک دعا رسول کریم ﷺ کو خدا تعالیٰ پر ایسا تو کل تھا کہ ہر مصیبت اور مشکل کے وقت اُسی پر نظر رکھتے اور اُس کے سوا ہر شے