سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 119
سيرة النبي ع 119 جلد 1 غریب بھائیوں کی دستگیری کرے اور حتی الوسع ان کی امداد میں دریغ نہ کرے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اور بعد میں بھی جب تک اسلامی حکومت رہی چونکہ الله زکوۃ با قاعدہ وصول کی جاتی تھی اس لیے ایک کثیر رقم جمع ہو جاتی تھی اور خزانہ شاہی کی ایک بہت بڑی مدتھی اور اگر رسول کریم ﷺ چاہتے تو اپنی اولاد کے غرباء کا اس رقم میں سے ایک خاص حصہ مقرر کر سکتے تھے جس کی وجہ سے سادات ہمیشہ غربت سے بچ جاتے اور افلاس کی مصیبت سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتے لیکن رسول کریم ﷺ کے سینہ میں وہ دل تھا جو تو کل علی اللہ سے پُر تھا اور آپ کی توجہ غیر اللہ کی طرف پھرتی ہی نہ تھی۔اس قدر رقم کثیر خزانہ میں آتی تھی اور تھی بھی غرباء کے لیے۔کسی کا حق نہ تھا کہ اس کی تقسیم ظلم سمجھی جاتی۔ایسی حالت میں اگر آپ اپنی اولاد کے لیے بصورت غربت ایک حصہ مقرر کر جاتے تو یہ بات نہ لوگوں کے لیے قابلِ اعتراض ہوتی اور نہ کسی پر ظلم ہوتا۔لیکن وہ باغیرت دل جو آپ کے سینہ میں تھا اور وہ متوکل قلب جو آپ رکھتے تھے کب برداشت کر سکتا تھا کہ آپ صدقہ و زکوۃ پر اپنی اولاد کے لیے صورت گزارہ مقرر کرتے۔پھر آپ کو تو یقین تھا کہ خدا تعالیٰ ان کا متکفل ہو گا اور خود ان کی مدد کرے گا۔آپ کے دل میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں آ سکتا تھا کہ ان کے لیے کسی سامان کے مہیا کرنے کی مجھے ضرورت ہے اس لیے آپ نے اپنی اولاد کے لیے اس رقم میں سے کوئی حصہ ہی مقرر نہ کیا۔اللہ اللہ ! ہم دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں حکومت ہوتی ہے وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اپنی اولا د اور رشتہ داروں کے لیے کچھ سامان کر جائیں لیکن آپ نے نہ صرف خود ہی اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور اپنی اولاد کے لیے زکوۃ میں سے کوئی حصہ نہ مقرر کیا بلکہ ان کو بھی خدا پر توکل کرنے کا سبق سکھایا اور انہیں حکم دے دیا کہ تمہارے لیے اس مال سے فائدہ اٹھانا ہی ناجائز ہے۔زکوۃ کے علاوہ جو لوگ اپنے پاس سے صدقات دیتے ہیں ممکن تھا کہ سادات کو