سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 89

سيرة النبي علي 89 جلد 1 کے خلاف کوئی بات ہو ان کی آنکھیں لال پیلی ہو جاتی ہیں اور منہ سے جھاگ آنی شروع ہو جاتی ہے۔اور اگر اشارہ بھی کوئی انہیں ایسی بات کہہ بیٹھے جس میں وہ اپنی ہتک سمجھتے ہوں تو وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے بلکہ ہر ممکن سے ممکن طریق سے اُس کا بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور جب تک مد مقابل سے بدلہ نہ لے لیں انہیں چین نہیں آتا۔مگر انہی لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ جب خدا اور رسول کی کوئی ہتک کرتا ہے تو اسے بڑی خوشی سے سنتے ہیں اور ان کو وہ قطعاً بری نہیں معلوم ہوتی۔اور ایسی مجلسوں میں اٹھنا بیٹھنا نا پسند نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی وقت ان سے بھی کوئی غلطی ہو جاتی ہے اور اس طرح ان کا دین برباد ہو جاتا ہے۔جتنے اخلاق اخلاق اور تہذیب تہذیب پکارنے والے لوگ ہیں اُن کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے دیکھ لوضروران میں یہ بات پائی جائے گی کہ دوسروں کے معاملہ میں اور خصوصاً دین کے معاملہ میں غیرت کے اظہار کو وہ بدخلقی اور بدتہذیبی قرار دیتے ہیں مگر اپنے معاملہ میں ان کا معیار اخلاق ہی اور ہے اور وہاں اعلیٰ اخلاق سے کام لینا ان کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔مومن انسان کا کام اس کے بالکل برخلاف ہونا چاہیے اور اسے اخلاق کا اعلیٰ نمونہ اپنے معاملات میں دکھانا چاہیے اور حتی الوسع کوشش کرنی چاہیے کہ بہت سے موقعوں پر چشم پوشی سے ہی کام لے اور جب تک عفو سے کام نکل سکتا ہو اور اس کا خراب نتیجہ نہ نکلتا ہوا سے ترک نہ کرے لیکن دین کے معاملہ میں قطعاً بے غیرتی کا اظہار نہ کرے اور ایسے تمام مواقع جن میں دین کی ہتک ہوتی ہو ان سے الگ رہے اور ایسی تمام مجلسوں اور صحبتوں سے پر ہیز کرے کہ جن میں دین کی ہتک اور اس سے ٹھٹھا ہوتا ہو اور دین پر جس قدر اعتراض ہوں ان کو دور کرنے کی کوشش کرے۔اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو معلوم ہوگا کہ وہ خدا تعالیٰ کی قدوسیت قائم کرنے کی نسبت اپنے نفس پر سے اعتراضات دور کرنے کے لیے زیادہ کوشاں رہتا ہے اور جتنا اسے اپنی