سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 90
سيرة النبي علي 90 جلد 1 صفائی کا خیال ہے اُتنا خدا تعالیٰ اور دینِ حق کی تنزیہہ کا خیال نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس معاملہ میں بھی عام انسانوں سے بالکل مختلف ہے اور آپ بجائے اپنے نفسانی معاملات اور ذاتی تکالیف پر اظہارِ غضب و غصہ کے نہایت ملائمت اور نرمی سے کام لیتے اور اگر کوئی اعتراض کرتا تو اُس پر خاموش رہتے اور جب تک خاموشی سے نقصان نہ پہنچتا ہو کبھی ذبّ اعتراضات کی طرف توجہ نہ کرتے۔مگر خدا تعالیٰ کے معاملہ میں آپ بڑے با غیرت تھے اور یہ بھی برداشت نہ کر سکتے تھے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ہتک کرے اور جب کوئی ایسا موقع پیش آتا آپ فوراً اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کرتے یا اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے احکام سے لا پرواہی کرتا تو اسے سخت تنبیہ کرتے۔حتى حضرت براء بن عازب سے روایت ہے فرمایا کہ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرِّجَالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَانُوْا خَمْسِيْنَ رَجُلًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ إِنْ رَأَيْتُمُوْنَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوْا مَكَانَكُمُ هَذَا أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ وَإِنْ رَأَيْتُمُوْنَا هَزَمُنَا الْقَوْمَ وَأَوْطَأْنَاهُمْ فَلَا تَبْرَحُوْا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ فَهَزَمُوْهُمْ قَالَ فَأَنَا وَاللهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشُدُدْنَ قَدْ بَدَتْ خَلَاخِلُهُنَّ وَأَسْوقُهُنَّ رَافِعَاتٍ ثِيَابَهُنَّ فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللهِ بْن جُبَيْرٍ الْغَنِيْمَةَ أَى قَوْمِ الْعَنِيْمَةَ ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنتَظِرُوْنَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَسِيْتُمُ مَا قَالَ لَكُمْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوْا وَاللهِ لَنَأْتِيَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِيْبَنَّ مِنَ الْغَنِيْمَةِ فَلَمَّا أَتَوْهُمُ صُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ فَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِيْنَ فَذَالِكَ إِذْ يَدْعُوْهُمُ الرَّسُوْلُ فِي أُخْرَاهُمُ فَلَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ إِثْنَى عَشَرَ رَجُلًا فَأَصَابُوْا مِنَّا سَبْعِيْنَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أَصَابَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعِيْنَ وَمِائَةَ سَبْعِيْنَ أَسِيْرًا وَسَبْعِيْنَ قَتِيَّلًا فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ أَفِي الْقَوْمِ