سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 88

سيرة النبي علي 88 جلد 1 وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنى وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللّهُمَّ اغْسِلُ عَنِّي خَطَايَايَ بِمَاءِ التَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقَّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ التَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدُ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ 32 اے میرے رب! میں تجھ سے سستی اور شدید بڑھاپے اور گناہوں اور قرضہ اور قبر کے فتنہ اور قبر کے عذاب اور دوزخ کے فتنہ اور اس کے عذاب اور دولت کے فتنہ کے نقصانوں سے پناہ مانگتا ہوں اور اسی طرح میں غربت کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں اور مسیح الدجال کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں۔اے میرے اللہ ! میری خطاؤں کو مجھ سے برف اور اولوں کے پانی کے ساتھ دھو دے اور میرے دل کو ایسا صاف کر دے کہ جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیا ہے اور مجھ میں اور گناہوں میں اتنا فاصلہ حائل کر دے جتنا تو نے مشرق و مغرب میں رکھا ہے۔اے وہ انسان ! جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت ہے تو بھی ذرا اس دعا کوغور سے پڑھا کر اور دیکھ کہ وہ گناہوں سے کس قدر متنفر تھے۔وہ بدیوں سے کس قدر بیزار تھے۔وہ کمزوریوں سے کس طرح بری تھے۔وہ عیبوں سے کس قدر پاک تھے اور ان کا دل خشیت الہی سے کیسا پر تھا۔فَتَدَبَّرُ وَاهْتَدِ بِهَدَاهُ۔غیرت دینی اس بات کے بتانے کے بعد کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور آپ کا ہر فعل خشیت الہی کی ایک زندہ مثال ہے میں آپ کی غیرت دینی کے متعلق کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔بہت سے لوگ اعلیٰ سے اعلیٰ اخلاق کے نمونے دکھاتے ہیں مگر یہ اخلاق اُسی وقت تک ظاہر ہوتے ہیں جب تک انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ذرا اُن کے منشاء