سیرت النبی ؐ — Page 22
تیسرا تعلق ہمارا خود اپنے نفس سے ہے کہ یہ بھی ہماری بہت سی تو جہات کا محتاج ہے اور جس طرح ہمارا خالق سے منہ موڑنا یا مخلوق سے بد اخلاقی سے پیش آنا نہایت مضر اور محرب امن ہے اسی طرح ہمارا اپنے نفس سے بدسلوکی کرنا اور اخلاق رذیلہ سے پیش آنا نہایت خطر ناک اور باعث فساد ہے۔پس وہی انسان کا مل ہوسکتا ہے کہ جو ان تینوں معاملات میں کامل ہو اور ان اصناف میں سے ایک صنف میں بھی کمزوری نہ دکھلائے۔اگر ان تینوں اقسام اخلاق کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اکثر انسان جو اخلاق میں کامل سمجھے جاتے ہیں بہت سی کمزوریاں رکھتے ہیں۔اور اگر ایک قسم کے اخلاق میں انہیں کمال حاصل ہے تو دوسری قسم میں انہیں کوئی دسترس نہیں۔ہاں اللہ تعالیٰ کے پیاروں اور پاک بندوں کا گروہ ہی نکلے گا کہ جو ان تینوں اقسام اخلاق میں کمال رکھتا ہے اور کسی خوبی کو اس نے ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔اور جب آپ رسول کریم صلی ایتم کے اخلاق کا مطالعہ غور سے کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ تمام صاحب کمال لوگوں کے سردار تھے اور باوجود اس کے کہ دنیا میں بہت سے صاحب کمال لوگ گزرے ہیں لیکن جس رنگ میں آپ رنگین تھے اس کے سامنے سب کے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں اور جن خوبیوں کے آپ جامع تھے ان کا عشر عشیر بھی کسی اور انسان میں نہیں پایا جاتا ہے عجب نوریست در جان محمد عجب لعلیست در کان محمد ندانم هیچ نفسے در دو عالم که دارد شوکت وشان محمد ہم اس بات سے قطعا منکر نہیں ہیں کہ آپ کے پہلے بھی اور آپ کے بعد بھی بڑے بڑے صاحب کمال پیدا ہوئے ہیں لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کی مثال اور آنحضرت صلی یا یتیم کی مثال دیئے اور سورج کی ہے اور سمندر اور دریا کی ہے کیونکہ وہ دلربا 22