سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 21

ناظرین پر یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاوے کہ تمام کے تمام شعبہ ہائے اخلاق میں آپ کمال کو پہنچ گئے تھے اور ہر حصہ زندگی میں آپ کے اخلاق اپنا جلوہ دکھا رہے تھے اور کوئی صنف خوبی کی باقی نہ رہی تھی جس میں آپ نے دوسرے تمام انسانوں کو اپنے پیچھے نہیں چھوڑ دیا۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے انسان تعلقات تین طرح کے ہوتے ہیں۔سب سے پہلا تعلق تو اس کا خدا سے ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کا خالق و رازق ہے۔اس کے فضل کے بغیر اس کا ایک دم آرام سے نہیں گزر سکتا بلکہ آرام تو الگ رہا اس کی زندگی ہی محال ہے۔اس کے احسانات کی کوئی حد نہیں ہر ایک لمحہ میں اس کے فضلوں کی بارش ہم پر ہو رہی ہے۔کمزور سے کمزور ضعیف سے ضعیف حالت سے اس نے ہمیں اس حد کو پہنچایا ہے اور عقل و خرد بخش کر کل مخلوقات پر فضیلت بخشی ہے اس لئے اگر اس کے ساتھ ہمارے تعلقات درست نہ ہوں۔اگر ہمارے اخلاق تعلق باللہ میں ادنیٰ ہوں اور اس کے احسانات کو ہم فراموش کر دیں تو ہم سے زیادہ کوئی ذلیل نہیں۔خالق کے بعد ہمارا تعلق مخلوق سے ہے کہ ان میں بھی کوئی ہمارا محسن ہے، کوئی ہمارا معلم ہے، کوئی ہمارا مہربان ہے، کوئی درد خواہ ہے، کوئی ہمارے آرام و آسائش میں کوشاں ہے، کوئی ہماری محبت اور توجہ کا محتاج ہے، کوئی اپنی کمزوریوں اور اپنی گری ہوئی حالت اور اپنے ہمسفروں سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ہم سے نصرت و مدد کا متمنی ہے۔غرضیکہ ہزاروں طریق سے ہزاروں آدمی ہم سے متعلق ہیں اور اگر ہمارے معاملات ان سے درست نہ ہوں اگر ان سے بدخلقی سے پیش آئیں تب بھی دنیا کا امن و امان جاتا رہتا ہے اور فساد بغاوت میں ترقی ہوتی ہے پس اگر ہمارے اخلاق مخلوق سے درست نہ ہوں تو ہم ایک ڈاکو کی طرح ہیں جو دنیا سے اس کے امن و آرام کا متاع لوقا اور غارت کرتا ہے۔21