سیرت النبی ؐ — Page 238
تھی۔جب مستعمل لیکن صاف کردہ برتن سے اس قدر نفرت تھی تو جوٹھا پانی تو پھر نہایت ناپاک ھے سمجھی جاتی ہوگی لیکن اس سیدوں کے باپ بلکہ انبیاء کے سید کو دیکھو کہ اصحاب الصفہ جن کو نہ کھانے کو روٹی ، نہ پہنے کو کپڑا ، نہ رہنے کو مکان میسر تھا ان کو اپنے گھر پر بلاتا ہے اور ایک نہیں دو نہیں، ایک جماعت کی جماعت کو دودھ کا پیالہ دیتا ہے اور سب کو باری باری پلا کر سب کا بچا ہوا ، کم سے کم نصف درجن مونہوں سے گزرا ہو ا دودھ سب سے آخر میں الحمد اللہ کہتا ہوا بسم اللہ کہ کر پی جاتا ہے اور اس کے چہرہ پر بجائے نفرت کے آثار ظاہر ہونے کے خوشی اور فرحت اور شکر و امتنان کی علامت ہویدا ہوتی ہیں۔بے شک دنیا میں بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں لیکن اس شان و شوکت کا مالک ہوکر جو رسول کریم مالی یا یہ ہم کو حاصل تھی پھر اس قدر تکبر سے بعد کی مثال کوئی پیش تو کرے۔لیکن خوب یا درکھو کہ ایسی مثال پیش کرنے پر کوئی شخص قادر نہیں ہوسکتا۔انکسار :- تکبر کے متعلق دو مثالیں بیان کرنے کے بعد میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف یہ کہ آپ کے اندر تکبر نہ تھا بلکہ اس کے علاوہ آپ کی طبیعت میں حد درجہ کا انکسار بھی تھا اور آپ ہمیشہ دوسرے کی تعظیم کرنے کے لئے تیار رہتے تھے اور اپنا رویہ ایسا رکھتے تھے جس سے دوسرے لوگوں کا ادب ظاہر ہو اور یہ وہ بات ہے کہ جس سے عام طور پر لوگ خالی ہوتے ہیں۔خصوصا امراء تو اس سے بالکل خالی ہی نظر آتے ہیں۔ایسے تو شاید بہت سے امراء مل جائیں جو ایک حد تک تکبر سے بچے ہوئے ہوں لیکن ایسے امراء جو تکبر سے محفوظ انکسار کا لفظ اُردو محاورہ کی وجہ سے رکھا گیا ہے ورنہ عربی زبان میں انکساران معنوں میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس کی بجائے تواضع کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔238