سیرت النبی ؐ — Page 239
ہونے کے علاوہ منکسر المزاج بھی ہوں شاذ و نادر ہی ملتے ہیں اور میرا یہ کہنا کہ شاذ و نادر منکسر المزاج امراہل سکتے ہیں اس کا بھی یہ مطلب نہیں کہ ایسے امراء بھی ہیں جو اپنے انکسار میں رسول اللہ صلی شیا کی ستم کا نمونہ ہیں۔کیونکہ رسول کریم صلی یہ تم کا نمونہ تو انبیاء میں بھی نہیں مل سکتا چہ جائیکہ عام امراء میں مل جائے۔میرا یہ ایمان ہے کہ آپ اپنی تمام عادات اور تمام حرکات میں بے نظیر تھے اور اخلاق کے تمام پہلوؤں میں کل انبیاء اور صلحاء پر فضیلت رکھتے تھے۔پس میں اگر کسی جگہ دوسرے امراء سے آپ کا مقابلہ کرتا ہوں تو صرف یہ دکھانے کے لئے کہ بادشاہوں اور امراء میں بھی نیک نمو نے تو موجود ہیں لیکن جس طرح ہر رنگ اور ہر پہلو میں آپ کامل تھے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی اور دوسرے یہ بتانے کے لئے کہ آپ کو صرف نیک بختوں میں اور صلحاء میں شامل کرنا درست نہیں ہو سکتا بلکہ کسی ایک خلق میں بھی بہتر سے بہتر نمونہ جو مل سکتا ہے اس سے بھی آپ کا نمونہ بڑھ کر تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کوئی نیک بخت بادشاہ نہ تھے بلکہ نبی تھے اور نبیوں کے بھی سردار تھے اور میں ان لوگوں کی کوشش کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں جو آپ کی لائف میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ آپ کے افعال کو چند اور بادشاہوں سے مشابہ کر کے دکھاتے ہیں اور اس طرح گویا آپ پر سے وہ اعتراض مٹانا چاہتے ہیں جو آپ کے دشمنوں کی طرف سے کئے جاتے ہیں اس کوشش کا نتیجہ سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ آنحضرت سلا می ایستم ایک اچھے بادشاہ تھے۔لیکن ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ آپ ایک نبی تھے اور نبیوں کے سردار تھے۔پس جب تک آپ کے اخلاق کو دوسرے انسانوں کے اخلاق سے بہتر اور اعلیٰ نہ ثابت کیا جائے ہمارا دعویٰ باطل ہو جاتا ہے اور صرف بعض شریف بادشاہوں سے آپ کی مماثلث ثابت کر دینے سے وہ مطلب ہرگز پورانہیں ہوتا جس کے پورا کرنے کے لئے ہم 239