سیرت النبی ؐ — Page 237
آڑ تلاش کی جاتی ہے کہ ایک دوسرے کا جھوٹھا پینے سے ایک دوسرے کی بیماری کے لگ جانے کا خطرہ ہوتا ہے حالانکہ اگر کوئی ایسی بیماری معلوم ہو تو اور بات ہے ورنہ رسول کریم صال اللہ تم تو فرماتے ہیں کہ سُورُ الْمُؤْمِنِ شِفَاء مؤمن کا جوٹھا استعمال کرنے میں بیماری سے شفاء ہوتی ہے۔پھر مسلمان کہلانے والوں کا کیا حق ہے کہ اس فتویٰ کے ہوتے ہوئے اپنے تکبر کو پورا کرنے کے لئے اس تار عنکبوت عذر کے پیچھے پناہ لیں۔غرض اس آزادی کے زمانہ میں بھی بادشاہ تو الگ رہے عام لوگ بھی پسند نہیں کرتے کہ اپنے سے نیچے درجہ کے آدمی کا جوٹھا کھانا یا پانی استعمال کریں اور خواہ دنیاوی حیثیت میں انسے ادنیٰ درجہ کا آدمی کس قدر ہی صاف اور نظیف کیوں نہ ہو اور ہر قسم کی میلوں اور گندوں سے کتنا ہی پاک کیوں نہ ہو اس کے جو ٹھے کھانے یا پینے کو بھی استعمال نہیں کرتے اور اس کو برا مناتے ہیں اور اس کو اپنی ہتک خیال کرتے ہیں۔اور پھر امارت ظاہری الگ رہی ، قومیتوں کے لحاظ سے بھی ایسے درجہ مقرر کئے گئے ہیں کہ ایک ادنیٰ قوم کے شخص کا جوٹھا کھانا یا پانی استعمال کرنا اعلیٰ قوم کے لوگ عار خیال کرتے ہیں خود ہمارے گھر میں ایک دفعہ یہ واقعہ ہؤا کہ ایک سیدانی بغرض سوال آئی۔باتیں کرتے کرتے اس نے پانی مانگا۔ایک عورت اس کو پانی دینے کے لئے اٹھی اور جو برتن گھڑوں کے پاس پانی پینے کے لئے رکھا تھا اس میں اُس نے اسے پانی دیا۔وہ سیدانی بھی سامنے بیٹھی تھی اس بات کو دیکھ کر آگ بگولا ہوگئی اور بولی کہ شرم نہیں آتی۔میں سیدانی ہوں اور تو امتیوں کے جو ٹھے برتن میں پانی دیتی ہے۔نئے برتن میں مجھے پانی پلانا چاہئے تھا۔غرض صرف سادات میں سے ہونے کی وجہ سے با وجود اس کے کہ وہ ہمارے ہاں سوال کرنے آئی تھی اور محتاج تھی اس نے اس قدر تکبر کا اظہار کیا کہ دوسرے آدمی کا مستعمل برتن جو سید نہ ہو اس کے سامنے پیش کر نا گو یا اس کی ہتک 237