سیرت النبی ؐ — Page 200
تھے اور وہی وقت تھا جب انہوں نے یہ سبق سیکھنا تھا کہ رسول کریم سلیشن اسلام کے ساتھ ہمیں کس طرح عمل کرنا چاہئے ایک شخص کا آگے بڑھ کر نہایت بے حیائی سے آپ سے کہنا کہ حضور ذرا عدل مد نظر رکھیں اور بے انصافی اور حق تلفی نہ کریں ایک خطر ناک فعل تھا۔جس سے ایک طرف تو ان قوانین کی خلاف ورزی ہوتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ساتھ کلام کرنے کے متعلق بیان فرمائے ہیں۔دوسرے ان تمام مواعید پر پانی پھر جاتا تھا جو اس شخص نے آنحضرت سالا ای یتیم کے حضور کئے تھے اور جو ہر ایک مسلمان کو مسلمان ہونے کے لئے کرنے پڑتے ہیں۔تیسرے سیاسی لحاظ سے آپ کے رعب کو ایک خطر ناک نقصان پہنچانے والے تھے۔اور چوتھے نو مسلموں کے لئے ایک نہایت بد نظیر قائم کرنے والے تھے جن کے دل ابھی اس عزت کا خیال بھی نہیں کر سکتے تھے جو صحابہ کے دلوں میں بھری ہوئی تھی۔پس وہ الفاظ جو ذوالخویصرہ کے منہ سے اس وقت نکلے ایک دنیاوی دربار میں خطر ناک سے خطرناک سزا کا فتویٰ دلانے کے لئے کافی تھے۔اور اگر زمانہ قدیم کے درباروں میں ایسا انسان قتل کا مستوجب خیال کیا جاتا تو موجودہ دور دستوریت میں بھی ایسا آدمی سزا سے محفوظ نہ رہ سکتا لیکن وہ بادشاہ ہر دو جہاں اس کے گستاخانہ کلام کے جواب میں کیا کہتا ہے؟ کیا اسے سزا کا حکم دیتا ہے؟ کہ تا ان نومسلموں پر آپ کا رعب بیٹھ جائے جو نہایت نگران نگاہوں سے صحابہ اور آنحضرت صلی یا پی ایم کے تعلقات کو اس لئے دیکھ رہتے تھے کہ ان سے اندازہ لگا سکیں کہ یہ تعلقات مصنوعی یا حقیقی ، یا عارضی ہیں یا مستقل، سطحی ہیں یا ان کی جڑیں دل کے تمام کونوں میں مضبوطی سے گڑی ہوئی ہیں کیا وہ میرا پیارا اگر اسے کسی بدنی سزا کا مستحق قرار نہیں دیتا۔تو کم سے کم زبانی طور پر ہی اسے سخت تہدید کرتا ہے کہ اگر ایسے الفاظ پھر تمہارے منہ سے نکلے تو تم کو سخت سزا دی جائے گی ؟ نہیں وہ بھی نہیں 200