سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 201

کرتا۔کیا وہ اسے اپنے سامنے سے دور ہو جانے کا حکم دیتا ہے؟ نہیں! وہ اس سے بھی اجتناب کرتا ہے۔پھر اس مجرم کے لئے وہ کیا سزا تجویز کرتا ہے! وہ باوجود صحابہ کی چڑھی ہوئی تیوری کے اور باوجود ان کے ہاتھوں کے بار بار دستہ تلوار کی طرف جانے کے اسے نہایت پر حکمت اور پر معنی جواب دیتا ہے جس سے بہتر جواب کوئی انسانی دماغ تجویز کرہی نہیں سکتا وہ اسے خود اسی کے فعل سے ملزم کرتا ہے خود اسی کے اقوال سے قائل کرتا ہے خود اسی کے اعمال سے شرمندہ کرتا ہے وہ کہتا ہے تو یہ کہ لَقَدْ شَقِيْتَ إِنْ لَّمْ أَعْدِلْ اگر میں نے عدل نہ کیا تو تو بد بختی کے گڑھے میں گر گیا۔کیونکہ تو نے تو مجھے خدا کا رسول سمجھ کر بیعت کی ہے۔اور دعویٰ کرتا ہے کہ میں آپ کو خدا کی طرف سے یقین کرتا ہوں اور مجھے اپنا رہنما اور پیشوا قرار دیتا ہے تو ان خیالات کے باوجود اے نادان جب تو مجھے انصاف سے دور اور عدل سے خالی خیال کرتا ہے تو تجھ سے زیادہ بد بخت اور کون ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو ایک ایسے شخص کے پیچھے لگا تا ہے جو اتباع کے قابل نہیں اور اس آدمی سے ہدایت چاہتا ہے جو خود گمراہ ہے اور اس سے صداقت طلب کرتا ہے جو جھوٹ بولنے میں کوئی عیب نہیں دیکھتا اور اگر تو مجھے نبی نہیں خیال کرتا بلکہ جھوٹا خیال کرتا ہے تو پھر بھی تو نہایت شقی ہے کیونکہ باوجود مجھے جھوٹا سمجھنے کے پھر میرے ساتھ رہتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ میں آپ کو سچا خیال کرتا ہوں۔اللہ اللہ کیسا پاک جواب ہے کیسا مسکت اور مسکت جواب ہے جسے سن کر ایک حیادار سوائے اس کے کہ زندہ ہی مرجائے اور کوئی جواب نہیں دے سکتا۔یہ تھا آپ کا عمل یہ تھی آپ کی بردباری جو آپ کو دنیا کے تمام انسانوں سے افضل ثابت کرتی ہے۔بہت ہیں جو اشتعال انگیز الفاظ کو سن کر خاموشی سے اپنے علم کا ثبوت دیتے ہیں لیکن میرے آقا کا تحمل 201