سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 199

ہو کر نہ آیا۔بہت دن تک آپ نے تقسیم اموال کے کام کو تعویق میں رکھا۔لیکن آخر اس بات کو مناسب سمجھا کہ اموال تقسیم کر دیئے جائیں۔چنانچہ جعرانہ پہنچ کر آپ نے ان اموال کو تقسیم کرنا شروع کیا۔منافق تو ہمیشہ اس تاک میں لگے رہتے تھے کہ کوئی موقعہ ملے تو ہم آپ پر اعتراض کریں۔کوئی نہ کوئی راہ نکال کر ذوالخویصرہ التیمی نے عین تقسیم کے وقت بڑھ کر کہا کہ آپ اس تقسیم میں عدل کو مدنظر رکھیں جس سے اس کی مراد یہ تھی کہ آپ اس وقت عدل سے کام نہیں لے رہے امام بخاری صاحب نے اس واقعہ کو حضرت جابر سے یوں روایت کیا ہے کہ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: حَدَّثَنَا قُرَةً حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ غَنِيمَةً بِالْجِعْرَانَةِ إِذْ قَالَ لَهُ رَجُلْ : اعْدِلُ فَقَالَ لَهُ: (لَقَدْ شَقِيْتَ إِنْ لَمْ أَعْدِلُ)۔(کتاب الجہاد باب ومن الدليل على ان الخمس لنوائب المسلمیں) یعنی آنحضرت سالی تم اموال غنیمت کو جعرانہ کے مقام پر تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے آپ کو کہا کہ آپ عدل سے کام لیں۔آپ نے جواب دیا کہ اگر میں نے عدل نہیں کیا تو تو بڑی بے برکتی اور بدبختی میں مبتلا ہو گیا۔اللہ اللہ کیسے خطر ناک حملہ کا جواب وہ پاک رسول کس نرمی سے دیتا ہے کس حلم سے اسے سمجھاتا ہے۔آنحضرت صلی یا پیام سے جو عشق صحابہ کو تھا وہ ایسا نہ تھا کہ وہ ایسی باتیں برداشت کر سکتے۔بلکہ حضرت عمرؓ اور خالد بن ولید تو ہمیشہ ایسے مواقع پر تلوار کھینچ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔مگر آنحضرت سلی لا علم ان کو ہمیشہ روکتے رہتے تھے کہ ان لوگوں سے اعراض کرو۔پس ایسے وقت میں جبکہ مکہ کے حدیث العہد مسلمان جو ابھی ان آداب سے بالکل ناواقف تھے جو ایک رسول کے حضور بجالانے ایک مؤمن کا فرض ہوتا ہے اور جو ایک ذرہ سے اشارہ سے صراط مستقیم سے ہٹ کر کہیں کے کہیں پہنچ سکتے تھے آپ کے ارد گر دکھڑے 199