سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 177

ہم نے ان کی بات کے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔اللہ اللہ وہ کیا ہی پیاری مٹی ہو گی جسے آپ اٹھاتے تھے اور وہ مٹی کروڑوں من سونے سے زیادہ قیمتی تھی جسے اٹھانے کے لئے خاتم النبین سالی ایم کے ہاتھ اٹھتے تھے اور جسے آپ کے پیٹ پر گرنے کا شرف حاصل ہوتا تھا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عذاب شدید کو دیکھ کر يَقُولُ الكَفِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ ترابا (النبا ۴۱) کا فرکہہ اٹھیں گے کہ کاش ہم مٹی ہوتے اور شریر و بد معاش لوگ جب سزا پاتے ہیں تو ایسے ہی جملے کہا کرتے ہیں اور اپنی حالت پر افسوس ہی کیا کرتے ہیں مگر خدا گواہ ہے وہ مٹی جو آنحضرت کے پیٹ پر گرتی تھی اس کی نسبت تو ایک مؤمن کا دل بھی للچا جاتا ہے کہ وہ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا کہہ اٹھے اور یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ براء اس واقعہ کا بیان کرتے ہوئے اس مٹی کا بھی ذکر کرتے ہیں جو آپ کے پیٹ پر گرتی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس مٹی کو بھی عشق کی نگاہوں سے دیکھتے تھے اور لالچ کی نگاہیں ادھر پڑ رہی تھیں اسی لئے تو مدتوں کے بعد جب وہ جنگ احزاب کا ذکر فرماتے ہیں تو وہ مٹی جو آنحضرت صلی ایم کے جسم اطہر پر پڑتی تھی انکو یاد آجاتی ہے۔میں حیران ہوں کہ صحابہ کس محبت اور کس شوق سے اس وقت آنحضرت کی طرف دیکھتے ہوں گے۔خدا یا وہ مزدور کیسا ہوگا اور کس شان کا ہوگا جس کے سر پر نبوت کا تاج تھا اور دوش پر مٹی کا ڈھیر ، صحابہ کے قدموں میں کیسی تیزی اور کیسی پھرتی پیدا ہوگئی ہوگی ہر ایک ان میں سے اپنے دل میں کہتا ہوگا کہ خدا کے لئے جلد جلد اس مٹی کو صاف کر کے جس قدر ہو سکے آنحضرت کا کام کم ہو اور وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر بوجھ اٹھاتے ہوں گے تا کہ جلد اس بوجھ کو ختم کریں اور آنحضرت سائیشم پہ تم کو آرام دیں۔(177)