سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 178

میری عقل چکراتی ہے جب میں صحابہ کے ان جذبات کا نقشہ اپنے دل میں کھینچتا ہوں جو اس وقت ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہوں گے میری قوت متخیلہ پریشان ہو جاتی ہے جب میں ان خیالات پریشاں کو اپنے سامنے حاضر کرتا ہوں جو اس وقت صحابہ کے دل و دماغ میں گشت لگا رہے ہوں گے۔اف ایک بجلی ایک سٹیم ہوگی جو اس وقت ان کے اندر کام کر رہی ہوگی نہیں بجلی اور سٹیم کی کیا حقیقت ہے عشق کی گرمی ان سے کام لے رہی تھی اور وہ مٹی جو وہ اپنی گردنوں اور کندھوں پر رکھتے تھے انہیں ہر ایک قسم کی نعمت سے زیادہ معلوم ہوتی تھی وہ بوجھ انہیں سب غموں سے چھڑارہا تھا اور وہ مٹی انہیں ہیروں اور جواہرات سے زیادہ قیمتی معلوم ہوتی تھی جسے نبیوں کے سرتاج کے کندھوں پر رکھے جانے کا فخر حاصل تھا۔کیا کوئی مسلمان بادشاہ ایسا ہے جسے اس مٹی کے اٹھانے میں عذر ہو! نہیں اس وقت کے اسلام سے غافل بادشاہ بھی اسے اٹھانے میں فخر سمجھیں گے پھر نیکو کارگروہ اسے اپنی کیسی کچھ عزت نہ خیال کرتا ہوگا۔اور یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ آنحضرت ملی یا یہ تم ان کو ایک گھوڑے پر کھڑے ہوئے حکم نہیں دے رہے تھے بلکہ دوسروں کو حکم دینے سے پہلے آپ خود اپنے کندھوں پر مٹی کا ڈھیر رکھتے تھے پھر جو لوگ اپنے محبوب و آقا کو مٹی ڈھوتے دیکھتے ہوں گے وہ جس شوق سے بھی اس کام کو کرتے بالکل مناسب اور بجا ہوتا یہ ایک ایسی اعلیٰ تدبیر تھی جس سے اگر ایک طرف آنحضرت کی محبت الہی ظاہر ہوتی ہے تو دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ فطرت انسانی کو خوب سمجھتے تھے اور آپ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اگر ماتحتوں میں روح پھونکنی ہو تو اس کا ایک ہی گر ہے کہ خود ان کے ساتھ مل کر کام کرو پھر ان میں خود بخود جوش پیدا ہو جائے گا اور اس طرح آپ نے ایک نا قابل فتح لشکر تیار کر دیا جو ہر زمانے کے لئے مایہ ناز ہے۔(178)