سیرت النبی ؐ — Page 176
جب مسلمانوں کو اس لشکر کی آمد کی خبر ہوئی تھی تو آنحضرت نے سب صحابہ کو بلا کر مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے حضرت سلمان نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسے موقع پر ہمارے ملک میں تو خندق کھود لیتے ہیں اور اسکے پیچھے بیٹھ کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔آپ نے یہ بات سنکر خندق کھود نے کا حکم دیا اور اسی وجہ سے جنگ احزاب کو غزوہ خندق بھی کہتے ہیں۔چالیس چالیس ہاتھ زمین دس دس آدمیوں کو کھود نے کے لئے بانٹ دی گئی اور کام زور وشور سے جاری ہو گیا مگر آنحضرت صالی ایتم کہاں تھے؟ آپ بھی ان لوگوں میں کام کر رہے تھے جو ادھر سے ادھر مٹی ڈھور ہے تھے کیونکہ کچھ لوگ زمین کھودتے تھے اور کچھ وہاں سے مٹی اٹھا کر ایک طرف کر دیتے تھے حتی کہ آپ کا بدن مٹی سے بھر گیا تھا۔حضرت براء سے روایت ہے ہے۔قَالَ : رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْاَ حْزَابِ يَنْقُلُ التَّرَابَ وَقَدْوَارَى التَرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُولُ : (لَوْ لَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَانْزِلِ السَّكِينَةَ عَلَيْنَا وَثَبَتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَا قَيْنَا إِنَّ الْأُ لَى قَدْ بَغْوَا عَلَيْنَا، اَذَا اَرَادُوْا فِتْنَةً ابَيْنَا۔( بخاری کتاب الجھاد باب حصر الخندق ) ترجمہ: فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی ہی ملک کو جنگ احزاب میں اس حالت میں دیکھا ہے کہ آپ بھی مٹی ڈھور ہے تھے اور آپ کے گورے گورے پیٹ پر مٹی پڑی ہوئی تھی اور آپ یہ فرماتے جاتے تھے۔الہبی اگر تیرا فضل نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی اور نہ ہم صدقہ دیتے نہ نمازیں پڑھتے۔پس ہم پر اپنی طرف سے تسلی نازل فرما اور اگر جنگ پیش آئے تو ہمارے پاؤں کو ثبات دیجئے وہ دشمن کے مقابلہ میں بالکل نہ ڈگمگائیں۔الہی یہ کافر ہم پر ظلم اور زیادتی سے حملہ آور ہو گئے ہیں اور ہمارے خلاف انہوں نے بغاوت کی ہے کیونکہ جب انہوں نے ہمیں شرک و کفر میں مبتلا ہونے کی دعوت دی ہے (176)