سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 175

انہوں نے کیں یا جو منصوبے انہوں نے باندھے وہ اپنی نظیر آپ ہی تھے اور کبھی کسی قوم نے دنیاوی مخالفت میں یا دینی عداوت میں کسی انسان کی بلا وجہ ایسی بدخواہی نہیں کی جیسی اہل مکہ نے آنحضرت سے کی مگر خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں آنحضرت سمال ٹیم کو فتح دی اور آپ ہر دشمن پر فاتح رہے۔گوچھوٹے چھوٹے حملے تو مدینہ میں آتے ہی شروع ہو گئے تھے مگر دراصل جنگوں کی ابتداءاب جنگ بدر سے ہی سمجھنا چاہئے کہ جس نے ایک طرف کفار کے بڑے بڑے سرداروں کو خاک میں ملا دیا اور دوسری طرف مسلمانوں پر ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ کی تائید انسان کو ہر مشکل سے سلامت نکال سکتی ہے اور دشمن خواہ کتنا ہی بہادر اور تعداد میں زیادہ ہو آسمانی تدابیر کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے۔قریش کو اپنے سرداروں کے مارے جانے کا طلیش ایک دم چین نہ لینے دیتا تھا اور وہ آئے دن مسلمانوں پر حملہ کرتے رہتے تھے جن میں سے مشہور حملہ احد کا بھی ہے یہ حملے متواتر چھ سال تک ہوتے رہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ جنگ بدر چھ سال تک متواتر جاری رہی اور اس کا خاتمہ احزاب پر ہوا جبکہ دشمن نے آخری مرتبہ ہزیمت اٹھا کر پھر مسلمانوں کو دکھ دینے کا ارادہ نہ کیا بلکہ نا امیدی اور مایوسی کا شکار ہو گئے اور سمجھ گئے کہ ہم مسلمانوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔جنگ احزاب جس کا ذکر قرآن شریف میں بار بار آیا ہے ایک نہایت خطرناک جنگ تھی جس میں مسلمان ایسے مجبور ہوئے تھے کہ انہیں قضائے حاجت کے لئے باہر جانے کو بھی رستہ نہ ملتا تھا اور کفار نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا تھا اور دس ہزار کا لشکر مرنے مارنے کے ارادہ سے میٹھی بھر مسلمانوں کے سامنے پڑا ہوا تھا۔جو مشکلات کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے۔(175)