سیرت النبی ؐ — Page 135
آنحضرت سلیم السلام نے فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔پھر ہم دونوں کے درمیان آکر بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپ کے قدموں کی خنکی میرے سینہ پر محسوس ہونے لگی۔جب آپ بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں کوئی ایسی بات نہ بتادوں جو اس چیز سے جس کا تم نے سوال کیا ہے بہتر ہے اور وہ یہ کہ جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ تو چونتیس دفعہ تکبیر کہو اور تینتیس دفعہ سبحان الله کہو اور تینتیس دفعہ الحمد و اله و پس یہ تمہارے لئے خادم سے اچھا ہوگا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت مصلای تیم اموال کی تقسیم میں ایسے محتاط تھے کہ باوجود اس کے کہ حضرت فاطمہ کو ایک خادم کی ضرورت تھی اور چکی پینے سے آپ کے ہاتھوں کو تکلیف ہوتی تھی مگر پھر بھی آپ نے ان کو خادم نہ دیا بلکہ دعا کی تحریک کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی متوجہ کیا۔آپ اگر چاہتے تو حضرت فاطمہ کو خادم دے سکتے تھے کیونکہ جو اموال تقسیم کے لئے آپ کے پاس آتے تھے وہ بھی صحابہ میں تقسیم کرنے کے لئے آتے تھے اور حضرت علی کا بھی ان میں حق ہو سکتا تھا اور حضرت فاطمہ بھی اس کی حقدار تھیں لیکن آپ نے احتیاط سے کام لیا اور نہ چاہا کہ ان اموال میں سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو دے دیں کیونکہ ممکن تھا کہ اس سے آئندہ لوگ کچھ کا کچھ نتیجہ نکالتے اور بادشاہ اپنے لئے اموال الناس کو جائز سمجھ لیتے پس احتیاط کے طور پر آپ نے حضرت فاطمہ کوان غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو آپ کے پاس اس وقت بغرض تقسیم آئیں کوئی نہ دی۔اس جگہ یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ جن اموال میں آپ کا اور آپ کے رشتہ داروں کا خدا تعالیٰ نے حصہ مقررفرمایا ہے ان سے آپ خرچ فرمالیتے تھے اور اپنے متعلقین کو بھی دیتے تھے ہاں جب تک کوئی چیز آپ کے حصہ میں نہ آئے اسے قطعا خرچ نہ فرماتے اور اپنے عزیز سے عزیز رشتہ داروں کو بھی نہ دیتے۔کیا دنیا کسی بادشاہ کی مثال پیش کر سکتی ہے جو (135)