سیرت النبی ؐ — Page 136
بیت المال کا ایسا محافظ ہو۔اگر کوئی نظیر مل سکتی ہے تو صرف اسی پاک وجود کے خدام میں سے۔ورنہ دوسرے مذاہب اس کی نظیر نہیں پیش کر سکتے۔مذکورہ بالا واقعات سے روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ آنحضرت سلائی لیتم نہایت محتاط تھے اور ہر معاملہ میں کمال احتیاط سے کام کرتے تھے خصوصا اموال کے معاملہ میں آپ نہایت احتیاط فرماتے کہ کسی کا حق نہ مارا جائے اور عارضی طور پر بھی لوگوں کو حق رسی میں دیر کرنا پسند نہ فرماتے بلکہ فوراً اغرباء کو حقوق دلوا دیتے تھے۔اب میں اسی امر کی شہادت کے لئے ایک اور واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کے اموال کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے ایمانوں کا بھی خیال رکھتے تھے اور کبھی ایسے چندوں کو قبول نہ فرماتے جو بعد میں کسی وقت چندہ دہندگان کے لئے وبال جان ثابت ہوں یا کسی وقت اسے افسوس ہو کہ میں نے کیوں فلاں مال اپنے ہاتھ سے کھو دیا آج اگر میرے پاس ہوتا تو میں اس سے فائدہ اٹھاتا۔مکہ میں جب تکالیف بڑھ گئیں اور ظالموں کے ظلموں سے تنگ آکر آنحضرت ایم کو پہلے اپنے صحابہ کو دوسرے ممالک میں نکل جانے کا حکم دینا پڑا اور بعد ازاں خود بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنا وطن عزیز ترک کر کے مدینہ کی طرف ہجرت اختیار کرنی پڑی تو آپ پہلے مدینہ سے کچھ فاصلہ پر بنی عمرو بن عوف کے مہمان رہے اور دس دن سے کچھ زیادہ وہاں ٹھہرے اس کے بعد آپ مدینہ تشریف لائے اور چونکہ یہاں مستقل طور پر رہنا تھا اس لئے مکانات کی بھی ضرورت تھی اور سب سے زیادہ ایک مسجد کی ضرورت تھی۔جس میں نماز پڑھی جائے اور سب مسلمان وہاں اکٹھے ہو کر اپنے رب کا نام لیں اور اس کے حضور میں اپنے عجز و انکسار کا اظہار کریں اور آنحضرت سلایا کہ تم جو ہر وقت اللہ تعالیٰ ہی (136)