سیرت النبی ؐ — Page 134
حضرت فاطمہ کا سوال:- پچھلے واقعہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایسا محتاط تھے کہ غرباء کا مال جب تک ان کے پاس نہ پہنچ جائے آپ کو آرام نہ آتا اور آپ کسی کے حق کے ادا کرنے میں کسی قسم کی ستی یا دیر کو روانہ رکھتے لیکن وہ واقعہ جو میں آگے بیان کرتا ہوں ثابت کرتا ہے کہ آپ اموال کی تقسیم میں بھی خاص احتیاط سے کام لیتے اور ایسا کوئی موقع نہ آنے دیتے کہ لوگ کہیں کہ آپ نے اموال کو خود اپنے ہی لوگوں میں تقسیم کر دیا۔حضرت علی فرماتے ہیں اَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا شَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِا الرَّحَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْى فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ فَوَجَدَتْ عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِئُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِنِي فَاطِمَة قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَا جِعَنَا فَذَهَبْتُ لِاَ قُوْمَ قَالَ عَلَى مَكَانِكُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِئ وَقَالَ اَلَا عَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا نِي إِذَا اَخَذْتُمَا مَضَا جِعَكُمَا تُكَبِرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ وَتَسَبَحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدَ اثَلَاثَةً وَ ثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ( بخاری کتاب المناقب باب مناقب علی بن ابی طالب ) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا نے شکایت کی کہ چکی پینے سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔اسی عرصہ میں آنحضرت مالی ایم کے پاس کچھ غلام آئے۔پس آپ آنحضرت کے پاس تشریف لے گئیں لیکن آپ کو گھر پر نہ پایا اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی آمد کی وجہ سے اطلاع دے کر گھر لوٹ آئیں۔جب آنحضرت ﷺہ گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہ نے جناب کو حضرت فاطمہ کی آمد کی اطلاع دی جس پر آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے میں نے آپ کو آتے دیکھ کر چاہا کہ اٹھوں مگر 134