سیرت النبی ؐ — Page 133
اس احتیاط کو دیکھو اور اس بے احتیاطی کو دیکھو جس میں آج مسلمان مبتلا ہو رہے ہیں۔امانتوں میں کس بے دردی سے خیانت کی جارہی ہے۔لوگ کس طرح غیروں کا مال شیر مادر کی طرح کھا رہے ہیں۔حقوق کا اتلاف کس زور وشور سے جاری ہے مگر کوئی نہیں جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔آنحضرت صلی اسلم جیسا پاک انسان جس پر گناہ کا شبہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔غرباء کے اموال کی نسبت ایسی احتیاط کرے کہ ان کا مال استعمال کرنا تو الگ رہا اتنا بھی پسند نہ فرمائے کہ اسے اپنے گھر میں پڑا رہنے دے اور اب گھر میں رکھنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے پاس اپنے اموال رکھوائیں تا ہم پھر انہیں واپس نہ دیں۔کاش ہمارے رؤساء اس نکتہ کو سمجھتے اور آنحضرت صلی ایتم کی پیروی اختیار کرتے جو باوجود معصوم ہونے کے اپنے نفس پر ایسا محاسبہ رکھتے کہ ذرہ سی غفلت میں بھی نہ پڑنے دیتے اور یہ لوگ دیکھتے کہ ہم تو اپنے نفوس پر ایسے قابو یافتہ نہیں پھر بغیر کسی حساب کے لوگوں کے اموال کو جمع کرنا ہمارے لئے کیسا خطرناک ہوگا مگر اس طرف قطعا تو جہ نہیں اور کل روپیہ بجائے غرباء کی خبر گیری کے اپنے ہی نفس پر خرچ کر دیتے ہیں اور جن کے لئے روپیہ جمع کیا جاتا ہے اور جن پر خرچ کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے بادشاہوں کو دیا ہے ان کی کوئی خبر ہی نہیں لیتا۔آنحضرت صلی اسلام کا یہ فعل ہمیشہ کے لئے مسلمان بادشاہوں کے لئے ایک نمونہ ہے جس پر عمل کرنے سے وہ فلاح دارین پاسکتے ہیں۔اگر رعایا کو یقین ہو جائے کہ ان کے اموال بے طور سے نہیں خرچ کئے جاتے تو وہ اپنے بادشاہ کے خلاف سازشوں کی مرتکب نہ ہومگر ہمارے بادشاہوں نے اپنے حقوق کو آنحضرت سی پی ایم کے حقوق سے کچھ زیادہ ہی سمجھ لیا ہے اور اپنے نفس پر آپ سے بھی زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔(133)