سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 132

کبھی لوگوں کے اموال پر ہاتھ نہ ڈالتے بلکہ باوجود اپنے لاثانی تقویٰ اور بے نظیر خشیت الہی کے آپ لوگوں کے اموال کو اپنے گھر بھی رکھنا پسند نہ کرتے تھے۔حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ ثُمَ قَامَ مُسْرِعًا يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ إِلَى بَعْضٍ حُجَرِ نِسَائِهِ فَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَرَأَى أَنَّهُمْ عَجِبُوْا مِنْ سَرْعَتِهِ فَقَالَ ذَكَرْتُ شَيْةً مِنْ تِبْرٍ عِندَ نَا فَكَرِهْتُ أَنْ يَحْبِسَنِيْ فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ ( بخاری کتاب الصلوۃ باب من صلى بالناس فذكر حابۂ ) میں نے نبی کریم صلا فی الہی ہم کے پیچھے مدینے میں عصر کی نماز پڑھی۔پس آپ نے سلام پھیرا اور جلدی سے کھڑے ہو گئے اور لوگوں کی گردنوں پر سے کودتے ہوئے اپنی بیویوں میں سے ایک کے حجرہ کی طرف تشریف لے گئے۔لوگ آپکی اس جلدی کو دیکھ کر گھبرا گئے۔پس جب باہر تشریف لائے تو معلوم کیا کہ لوگ آپ کی جلدی پر متعجب ہیں۔آپ نے فرمایا کہ مجھے یاد آ گیا کہ تھوڑا سا سونا ہمارے پاس رہ گیا ہے اور میں نے ناپسند کیا کہ وہ میرے پاس پڑا ر ہے اس لئے میں نے جا کر حکم دیا کہ اسے تقسیم کر دیا جائے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مال کے معاملہ میں نہایت محتاط تھے اور کبھی پسند نہ فرماتے کہ کسی بھول چوک کی وجہ سے لوگوں کا مال ضائع ہو جائے۔آپ کی نسبت یہ تو خیال کرنا بھی گناہ ہے کہ نعوذ باللہ آپ اپنے نفس پر اس بات سے ڈرے ہوں کہ کہیں اس سونے کو میں نہ خرچ کرلوں۔مگر اس سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ آپ اس بات سے ڈرے کہ کہیں جہاں رکھا ہو وہیں نہ پڑا رہے اور غرباء اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جائیں۔اور اس خیال کے آتے ہی آپ دوڑ کر تشریف لے گئے اور فوڑ اوہ مال تقسیم کروایا اور پھر مطمئن ہوئے۔(132)