سیرت النبی ؐ — Page 131
کی اولاد میں سے ہوں جس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خطر ناک وقت میں بھی آپ گھبرائے نہیں بلکہ ان لوگوں کو پکار کر سنا دیا کہ میں سچا ہوں اور خدا کی طرف سے ہوں تم میرا کیا بگاڑ سکتے ہو۔پس ایسے خطر ناک موقع پر خون کے پیاسے دشمنوں کے مقابلہ میں کھڑا رہنا پھر انہیں اپنی موجودگی کی اطلاع خود نعرہ مار کر دینا پھر کامل اطمینان اور یقین سے فتح کا اظہار کرنا ایسے امور ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے کوئی شخص میرے آقا کے مقابلہ میں جرات و دلیری کا دعوی نہیں کرسکتا۔مال کے متعلق احتیاط :- آنحضرت سلی لا الہ تم کو اللہ تعالی نے اپنے وعدہ کے مطابق بادشاہ بھی بنا دیا تھا اور گو آپ کے مخالفین نے ناخنوں تک زور مارا مگر خدا کے وعدوں کو پورا ہونے سے کون روک سکتا ہے باوجود ہزاروں بلکہ لاکھوں دشمنوں کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دشمنوں پر فتح دی اور وہ سب آپ کے سامنے گردنیں جھکا دینے پر مجبور ہوئے اور انہیں چاروناچار آپ کے آگے سر نیاز مندی جھکانا پڑا۔مختلف ممالک سے زکوۃ وصول ہو کر آنے لگی جس کا انتظام آپ ہی کرتے تھے مگر جس رنگ میں کرتے تھے اسے دیکھ کر سخت حیرت ہوتی ہے۔آجکل کے بادشاہوں کو دیکھو کہ وہ لوگوں کا روپیہ کس طرح بے دریغ اڑا رہے ہیں۔وہ مال جو غرباء کے لئے جمع ہو کر آتا ہے اسے اپنے اوپر خرچ کر ڈالتے ہیں اور ان کے خزانوں کا کوئی حساب نہیں۔اگر وہ اپنے خاص اموال کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کریں تو ان پر کوئی اعتراض نہ ہو مگر غرباء کے اموال جو صرف تقسیم کرنے کے لئے ان کے سپرد کئے جاتے ہیں ان پر بھی وہ ایسا دست تصرف پھیرتے ہیں کہ جیسے خاص ان کا اپنا مال ہے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔مگر آنحضرت صلی الا ایم کا حال بالکل اس کے برخلاف تھا۔آپ 131