سیرت النبی ؐ — Page 130
خدام کے ساتھ دشمن کے مقابلہ میں کھڑا رہے اور تیروں کی بارش کی ذرا بھی پرواہ نہ کرے تو یہ ایک ایسا فعل نہیں ہو سکتا جو کسی معمولی جرات یاد لیری کا نتیجہ ہو بلکہ آپ کے اس فعل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے سینہ میں ایک ایسا دل رکھتے تھے جو کسی سے ڈرنا جانتا ہی نہ تھا اور خطرناک دشمن کے مقابلہ میں ایسے وقت جبکہ اس کے پاس کوئی ظاہر سامان موجود نہ ہو کھڑا رہنا اس کے لئے ایک معمولی کام تھا اور یہ ایک ایسا دلیرانہ کام ہے ایسی جرات کا اظہار ہے کہ جس کی نظیر اولین و آخرین کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔آپ (فداہ ابی وامی ) خوب جانتے تھے کہ کفار عرب کو اگر کسی جان کی ضرورت ہے تو میری جان کی۔اگر وہ کسی کے دشمن ہیں تو میرے دشمن ہیں۔اگر وہ کسی کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو مجھے۔مگر باوجود اس علم کے باوجود بے یارو مددگار ہونے کے آپ ایک قدم پیچھے نہ ہے بلکہ اس خیال سے کہ کہیں خچر ڈر کر نہ بھاگ جائے ایک آدمی کو باگ پکڑ وادی کہ اسے پکڑ کر آگے بڑھاؤ تا یہ بے بس ہو کر بھاگ نہ جائے۔بے شک چند آدمی آپ کے ساتھ اور بھی رہ گئے تھے مگر وہ اول تو اس عشق کی وجہ سے جو انہیں رسول کریم کے ساتھ تھا وہاں کھڑے رہے دوسرے ان کی جان اس خطرہ میں نہ تھی جس میں آنحضرت سال یا اسلام کی جان تھی۔پس باوجود کمال دلیری کے آپ کی جرات کے مقابلہ وہ لوگ بھی نہیں کر سکتے جو اس وقت آپ کے پاس کھڑے رہے۔اس جگہ ایک اور بات بھی یا درکھنی چاہئے کہ ایسے وقت میں ایک بہادر انسان اپنی ذلت کے خوف سے جان دینے پر آمادہ بھی ہو جائے اور بھا گئے کا خیال چھوڑ بھی دے تب بھی وہ یہ جرأت نہیں کر سکتا کہ دشمن کوللکارے اور اگر للکارے بھی تو کمال مایوسی کا اظہار کرتا ہے اور جان دینے کے لئے آمادگی ظاہر کرتا ہے مگر آپ نے اس خطر ناک وقت میں بھی پکار کر کہا کہ میں خدا کا نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں اور میں عبد المطلب (130)