سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 129

اس واقعہ کی اہمیت کے روشن کرنے کے لئے میں نے پہلے بتایا تھا کہ بادشاہ لشکر میں سب سے زیادہ خطرہ میں ہوتا ہے کیونکہ جو نقصان بادشاہ کے قتل یا قید کر لینے سے لشکر کو پہنچتا ہے وہ کوئی ہزار سپاہیوں کے مارے جانے سے نہیں پہنچتا۔پس دشمن کو جس قدر آپ کا نجتس ہوسکتا تھا اور کسی کا نہیں۔پس جبکہ اچانک دشمن کا حملہ ہوا اور وہ اپنے پورے زور سے ایک عارضی غلبہ پانے میں کامیاب ہوا اور لشکر اسلام اپنی ایک غلطی کی وجہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو ا تو دشمن کے لئے ایک غیر مترقبہ موقع تھا کہ وہ آنحضرت مسلہ تم پرحملہ کرتا اور اپنے مدت کے بغض اور عناد کو عملی جامہ پہناتا۔پس ایسی صورت میں آپ کا وہاں کھڑا رہنا ایک نہایت خطرناک امر تھا جو نہایت بہادری اور جرات چاہتا تھا اور عام عقل انسانی اس واقعہ کی تفصیل کو دیکھ کر ہی حیران ہو جاتی ہے کہ کس طرح صرف چند آدمیوں کے ساتھ آپ وہاں کھڑے رہے۔آپ کے ساتھ اس وقت بارہ ہزار بہادر سپاہی تھے جو ایک سے ایک بڑھ کر تھا اور سینکڑوں مواقع پر کمال جرات دکھلا چکا تھا مگر حنین میں کچھ ایسی ابتری پھیلی اور دشمن نے اچانک تیروں کی ایسی بوچھاڑ کی کہ بہادر سے بہادر سپاہی کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ تاب مقابلہ نہ لا سکا حتی کہ جنگ کا عادی بلکہ میدان جنگ کا تربیت یافتہ عرب کا گھوڑا بھی گھبرا کر بھا گا اور بعض صحابہ کا بیان ہے کہ اس شدت کا حملہ تھا کہ ہم باوجود کوشش کے نہ سنبھل سکتے تھے اور چاہتے تھے کہ پاؤں جما کر لڑیں مگر قدم نہ جمتے تھے اور ہم اپنے گھوڑوں کو واپس کرتے تھے لیکن گھوڑے نہ لوٹتے اور ہم اس قدر ان کی باگیں کھینچتے تھے کہ گھوڑے دوہرے ہو جاتے تھے مگر پھر آگے کو ہی بھاگتے تھے اور واپس نہ لوٹتے تھے۔پس اس خطرناک وقت میں جب ایک جرار لشکر پیٹھ پھیر چکا ہو ایک شخص تن تنہا صرف چند وفادار (129)