سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 94

آپ کی زبان پر خدا تعالیٰ کا ہی ذکر تھا۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ خدا تعالیٰ کے ذکر پر چشم پر نم ہو جاتے تھے اور آپ کا خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا یاسننا معمولی بات نہ تھی بلکہ ایک عاشقانه درد اور محبانہ ولولہ اس کا محرک اور باعث تھا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَ أَعَلَى قُلْتُ اَقْرَأَ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ فَإِنِّىٰ أَحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ حَتَّى بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا قَالَ أَمْسِكَ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرُفَانِ ( بخاری کتاب التفسیر باب قوله تعالیٰ كيف اذا جئنا من كل امة بشھید) مجھے نبی کریم سلاش تم نے فرمایا کہ مجھے کچھ قرآن سناؤ میں نے کہا کہ کیا میں آپ کو قرآن سناؤں حالانکہ قرآن شریف آپ پر ہی نازل ہوا ہے۔فرمایا کہ مجھے یہ بھی پسند ہے کہ میں دوسرے کے منہ سے سنوں۔پس میں نے سورۃ نساء میں سے کچھ پڑھا یہاں تک کہ میں اس آیت تک پہنچا کہ پس کیا حال ہو گا جب ہر ایک امت میں سے ہم ایک شہید لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر شہید لائیں گے اس پر آپ برداشت نہ کر سکے اور فرمایا کہ بس کرو۔اور میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔اللہ اللہ کیسا عشق ہے اور پھر کیسا ایمان ہے۔آپ قرآن شریف کو جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے خود پڑھنے اور دوسروں کو سنانے کا حکم دیتے تھے اور پھر اپنے محبوب کا کلام سنکر چشم پر آب ہو جاتے آپ ایسے بہادر تھے کہ میدان کارزار میں آپ تک دشمن کی رسائی نہ ہوتی اور حضرت علی جیسے بہادر آدمی فرماتے ہیں کہ جس جگہ آپ کھڑے ہوتے تھے وہاں وہی آدمی کھڑا ہوسکتا تھا جونہایت دلیر اور بہادر ہو اور معمولی آدمی کی جرات نہ پڑ سکتی تھی کہ آپ کے پاس کھڑا ہو۔پھر ایسا بہادر انسان کہ جس کے سامنے بڑے بڑے بہادروں کی روح کا نپتی تھی اور ان کی گردنیں جھک جاتی تھیں وہ بہادر انسان جس کے نام کو سنکر بادشاہ خوف 94