سیرت النبی ؐ — Page 93
اور دنیاوی غرض یا مطلب کی طرف متوجہ ہونے کے خدا ہی کی یاد آپ کے سینہ میں تھی اور جن کو چھوڑ چلے تھے ان کی فرقت کے صدمہ کی بجائے جن سے ملنا تھا ان کی ملاقات کی تڑپ تھی اور زبان پر اپنے رب کا نام جاری تھا۔آہ! کیسا مبارک وہ وجود تھا۔کیا احسان ماننے والا وہ انسان تھا۔اس کی زندگی بہتر سے بہتر انسانوں کے لئے اسوہ حسنہ اور مہذب سے مہذب روحوں کے لئے ایک نمونہ تھی اس نے اپنے پیدا ہونے سے مرنے تک کوئی وقت اپنے رب کی یاد سے غافل نہیں گزارا۔وہ پاک وجود خدا تعالیٰ میں بالکل محوہی ہو گیا تھا اور اس کی نظر میں سوائے اس وحدہ لا شریک خدا کے جو لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ہے اور کوئی وجود بچت ہی نہ تھا۔پھر بھلا جو ذ کر کہ تمام عمر اس کی زبان پر رہا وفات کے وقت وہ اسے کہاں بھلا سکتا تھا وہ کچھ انسان ساری عمر کہتا یا کرتا رہا وہی اسے وفات کے وقت بھی یاد آتا ہے۔پھر جس کی عمر کا مشغلہ ہی یاد الہی ہو اور زندگی بھر جس کی روحانی غذا ہی ذکر الہی ہو وہ وفات کے وقت اور کسی چیز کو کب یاد کر سکتا تھا۔مجھے میرا مولا پیارا ہے اور مجھے محمد رسول اللہ صلی یا یہ ہم بھی پیارا ہے کیونکہ وہ میرے مولا کا سب سے بڑا عاشق اور دلدادہ ہے اور جسے جس قدر میرے رب سے زیادہ الفت ہے مجھے بھی وہ اس قدر عزیز ہے۔اللهمَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ذکر الہی ہر وقت:- میں نے پیچھے بعض واقعات سے یہ ثابت کیا ہے کہ رسول کریم سالی تم کو ذکر الہی سے کیسی محبت تھی اور آپ کس طرح ہر موقع پر خدا تعالیٰ کا نام لینا پسند فرماتے تھے اور صرف خود ہی پسند نہ فرماتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے اور وفات کے وقت بھی 93