سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 95

کھاتے تھے جس کی بہادری کا شہرہ تمام عرب اور شام اور ایران میں ہورہا تھا جس کی ہمت بلند کے سامنے قیصر و کسریٰ کے ارادے پست ہو رہے تھے وہ خدا تعالیٰ کا کلام سنکر روتا ہے اور آپ کے دل کی کیفیت ایسی ہو جاتی ہے کہ زیادہ سننا گویا اس کے لئے برداشت سے بڑھ کر ہے۔کیا یہ بات مطہر قلب پر دلالت نہیں کرتی کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک محبت کا دریا اس کے سینہ میں بہہ رہا تھا اور عشق کی آگ اس کے اندر بھڑک رہی تھی۔کیا خدا تعالیٰ کے ذکر پر یہ حالت اور پھر ایسے بہادر انسان کی جو کسی بشر سے خائف نہ تھا اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ خدا تعالیٰ کی محبت نے آپ کے روئیں میں دخل کیا ہو ا تھا اور خدا تعالیٰ کا ذکر آپ کی غذا ہو گیا تھا اور اس کا جلال اور اس کی عظمت آپ کے سامنے ہر وقت موجود رہتی تھی اور اپنے مولا کا ذکر سنتے ہی آپ بے چین ہو جاتے۔کلام الہی آپ کی تسلی کا باعث تھا اور یہی آپ کے عشق کو تیز کرتا اور آپ اپنے پیارے کو یاد کر کے بے اختیار ہو جاتے آپ بڑی شان کے آدمی تھے اور خدا تعالیٰ سے جو آپ کو تعلق تھا وہ اور کسی انسان کو حاصل نہیں ہو الیکن پھر بھی جب آپ خدا تعالیٰ کی ملاقات کو یاد کرتے اور قیامت کا نظارہ آپ کی آنکھوں کے آگے آتا تو باوجود ایک مضبوط دل رکھنے کے آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑتے۔اخلاص باللہ۔شرک سے نفرت :- ایک خاص بات جو رسول کریم کی زندگی میں دیکھی جاتی ہے اور جس میں کوئی نبی اور ولی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا بلکہ آپ کے قریب بھی نہیں پہنچتا وہ آپ کا شرک سے بیزار ہونا ہے۔ہمارا یقین ہے کہ کل انبیاء شرک سے بچانے کے لئے دنیا میں آئے اور بلا استثناء ہر ایک نبی کی تعلیم یہی تھی کہ خدا تعالیٰ کو ایک سمجھا جائے خواہ کوئی نبی ہندوستان میں، جو شرک و بت پرستی کا گھر ہے پیدا ہوا یا مصر میں جو رب الا رباب کے عقیدہ کا مرکز تھا ظاہر ہوا، 95