سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 87
سیرت المہدی 87 حصہ چہارم ایک دفعہ بوٹ پہنے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تھا۔میرا بوٹ ذرا تنگ تھا۔اس لئے میں تکلیف سے چلتا تھا کیونکہ حضور بہت تیز چلتے تھے۔آپ نے مجھے دیکھ کر اپنے پرانے جوتے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ہم تو ایسا جوتا پہنتے ہیں یعنی آپ کیوں تکلیف اُٹھاتے ہیں۔1114 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں نے جب لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تو میں نے اُس خلوت کو غنیمت جان کر حضور سے دو تین امور کے متعلق استفسار کیا۔وہ سوالات اور جوابات جو حضور نے ازرہ شفقت فرمائے ، یہ ہیں۔سوال نمبرا خاکسار نقش بندیہ طریق میں بیعت ہونے سے قبل فرقہ اہل حدیث جس کو عام لوگ وہابی کے لفظ سے یاد کرتے ہیں۔میں بھی شامل رہا ہے۔اُس وقت سے نمازوں کو جمع کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔اس بارہ میں حضور کا کیا ارشاد ہے۔جواب: حضور نے فرمایا کہ جمع صلاتین کے بارہ میں میرے نزدیک مخالف و موافق ہر دو فریق نے افراط وتفریط سے کام لیا ہے۔ایک طرف اس پر عاملین کا تو یہ حال ہے کہ بلا عذر شرعی یا جائز ضرورت کے نمازیں جمع کر لیتے ہیں۔یہاں تک کے حقہ ذرا اچھا چل رہا ہے یا تاش وغیرہ کھیل رہے ہیں۔اذان ہوئی تو ان کو چھوڑ کر کون جائے۔جھٹ نماز جمع کرنے کی ٹھان لیتے ہیں، چاہے دوسری نماز بھی ادا ہو جائے یا دونوں ضائع ہو جائیں۔فرمایا ! یہ بہت بُری بات ہے۔نما ز جیسے ضروری فرض میں کوتاہی اور غفلت ایمان کی کمزوری پر دال ہے اور دوسری طرف حنفی صاحبان کا یہ حال ہے کہ کیسی ہی ضرورت اور عذر جائز ہو نماز قضاء تو کر دیں گے مگر اہل حدیث کی ضد اور مخالفت میں جمع نہ کریں گے۔فرمایا۔کہ کوئی ان لوگوں سے پوچھے کہ حج کے موقعہ پر ایک نماز ہر حاجی کو ٹھیک ادائے رسوم حج کے وقت لازمی طور پر جمع کرنی پڑتی ہے۔اگر یہ فعل ایسا ہی ممنوع ہوتا۔جیسا آپ لوگوں کے عمل سے ہویدا ہے تو ایسے مقدس مقام پر اس کی اجازت کیسے ہوتی۔دراصل ضرورت اور عدم ضرورت کا سوال ہے اور یہی اس بارہ میں معیار ہے۔سوال نمبر ۲: خاکسار نے عرض کیا کہ میں نے بار ہا صوفیاء کی مجلس حال و قال میں اور شیعہ وغیرہ کی مجالس محرم وغیرہ میں قصداً اس غرض سے شامل ہو کر دیکھا ہے کہ یہ اس قدرگر یہ و بکا اور چیخ و پکار جو کرتے ہیں مجھے