سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 86
سیرت المہدی 86 حصہ چہارم جب میں قادیان میں ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈاک میرے سپرد ہوتی۔میں ڈاک سنایا کرتا تھا۔ایک خط پر لکھا ہوا تھا کہ کوئی دوسرا نہ کھولے۔باقی خطوط تو میں نے سنائے لیکن وہ خط حضور کے پیش کر دیا۔آپ نے فرمایا۔کھول کر سنا ئیں۔دوسرے کے لئے ممانعت ہے۔ہم اور آپ تو ایک وجود کا حکم رکھتے ہیں۔میں نے وہ خط پڑھ کر سنا دیا۔نویسندہ نے اپنے گناہوں کا ذکر کر کے دعا کی درخواست کی تھی۔اور بڑی عاجزی اور انکساری سے خط لکھا تھا۔اس کی تحریر سے معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ ایک آگ میں پڑا ہوا ہے۔اور حضور اُسے جلدی کھینچ کر نکالیں۔آپ نے فرمایا۔یہ خط مجھے دے دیں۔میں خود اس کا جواب لکھوں گا۔جس طرح واشگاف حال اس نے لکھا ہے مجھے اس کی خوشی ہوئی۔ایسے لوگ کم دیکھے گئے ہیں۔1111 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت اُم المومنین نے مجھے ارشاد فرمایا کہ میرے لئے ایک سبک اور عمدہ دیسی جو تا بنوا کر لائیں۔میں پیر کا ماپ بھی لایا۔اور پھگواڑہ کے ایک معروف موچی سے جو تا بنوایا۔بنوا کر لے گیا۔حضرت ام المومنین کے پیر میں وہ ڈھیلا آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندر سے خود پہن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا۔کہ اُن کے پیر میں تو ڈھیلا ہے مگر ہم پہنا کریں گے میں نے پھر دوبارہ اور جو تا بنوا کر بھیجا۔(1112 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو تشریف لے جارہے تھے۔پیر میں جو جو تا تھا۔اُس کو پیوند لگے ہوئے تھے اور بدزیب معلوم ہوتا تھا۔میں آپ کی ہمراہی سے ہٹ کر ایک دوکان پر گیا اور آپ کے پیر کا بہت ٹھیک جو تا خرید کر لایا۔آپ مجھے سیر سے واپسی پر ملے۔میں جوتا لئے ساتھ چلا آیا اور مکان پر آکر پیش کیا کہ حضور وہ جوتا تو بُرا لگتا ہے۔آپ نے جزاکم اللہ فرما کر نیا جو تا رکھ لیا۔اور پہن کر بھی دیکھا تو بہت ٹھیک تھا۔اگلے دن جب حضور سیر کو تشریف لے گئے تو وہی پرانا جوتا پیوند کیا ہوا پہنے ہوئے تھے۔میں نے عرض کیا کہ حضور نے تو پھر وہی جوتا پہن لیا۔آپ نے فرمایا اس میں مجھے آرام معلوم ہوتا ہے اور اس کو پیر سے موافقت ہوگئی ہے۔1113 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں