سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 88
سیرت المہدی 88 حصہ چہارم پر بھی کوئی حالت کم از کم رفت وغیرہ ہی طاری ہو گر مجھے بھی رقت نہیں ہوئی۔جواب: حضور نے فرمایا کہ ان مجالس میں جو شور و شغب ہوتا ہے اس کا بہت حصہ تو محض دکھاوے یا بانی مجلس کے خوش کرنے کے لئے ہوتا ہے اور باقی رسم اور عادت کے طور پر بھی وہ ایسا کرتے ہیں کیونکہ اُن کا خیال ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر ایسا کرنا موجب ثواب ہے۔لیکن مومن کے لئے رقیق القلب ہونا ضروری ہے۔اس کے لئے نمازیں وقت پر اور خشوع خضوع سے ادا کرنا اور کثرت استغفار و درودشریف اور نمازوں میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کے وقت اهدنا الصراط المستقیم کا تکرار بطور علاج فرمایا۔سوال نمبر ۳ خاکسار نے بطور دور دو وظائف کچھ پڑھنے کے واسطے دریافت کیا۔تو حضور نے فرمایا کہ آپ کی ملازمت بھی نازک اور ذمہ واری کی ہے۔بس نمازوں کو سنوار کر وقت پر ادا کرنا اور اتباع سنت اور چلتے پھرتے درود شریف، استغفار پڑھئے اور وقت فرصت قرآن مجید کی سمجھ کر تلاوت کو کافی فرمایا۔خاکسار کے مکر راصرار پر نماز فرض کے بعد اُسی نشست میں گیارہ دفعہ لا حول ولاقوۃ پڑھنے کے لئے ارشاد فرمایا۔1115 بسم الله الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دہلی پہنچ کر مولوی نذیر حسین صاحب اور مولوی بشیر احمد بھو پالوی سے مباحثہ فرمایا تھا۔اُس سفر سے واپسی پر جماعت پٹیالہ کی درخواست پر ایک دو روز کے لئے حضور نے پٹیالہ میں قیام فرمایا۔حضرت مولا نا مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ہمراہ تھے۔ان دنوں میری شادی و نکاح کا مرحلہ در پیش تھا اور میرے والد مرحوم اپنی دنیا دارانہ وضع کے پابند اور نام و نمود کے خوگر تھے اور اپنے احباب اور مشیروں کے زیر اثر شادی کے اہتمام میں باوجود مالی حالت اچھی نہ ہونے کے قرض لے کر بھی جلوس اور خلاف شرع رسوم کی تیاروں میں مصروف تھے۔خاکسار نے اُن سے ان رسوم کی مخالفت اور اپنی بیزاری کا اظہار کیا مگر اُن پر کچھ اثر نہ ہوا۔میں نے اپنی جائے ملازمت را جپورہ سے ان رسومات کے خلاف شرع اور خلاف اخلاق و تمدن ہونے کے متعلق تین چار صفحات کا ایک مضمون لکھ کر دہلی کے ایک ہفتہ وار اخبار میں شائع کرایا اور چند کا پیاں منگوا کر اپنے والد صاحب کی خدمت میں اور دیگر